خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 235
جلد اول خلافة على منهاج النبوة ۲۳۵ خلیفہ وقت کے مشاغل اس کے علاوہ میرے ذہن میں جماعت کی ترقی کی سکیمیں ہیں۔ازاں جملہ ایک یہ کہ وہ کیا تدابیر ہیں جن پر چلنے سے جماعت میں آئندہ خلافت کے متعلق کوئی فتنہ نہ ہو۔( ب ) عورتوں کی تعلیم کے متعلق نصاب ( ج ) سیاسی امور سے ہمارے تعلقات کس طرح ہوں۔ان سب پر میں کچھ ، والا ہوں۔اور یہ سب کام میرے ہی ذمہ ہیں جو میں کروں گا اور کر رہا ہوں۔اگر مقامی احباب کی خبر گیری اور شہر میں پھر پھر کر ان کے گھروں میں جا جا کر فرداً فرداً حال پوچھنا مجھ ہی پر ڈالتے ہو اور آپ لوگ خود یہ نہیں کریں گے کہ وہ اپنے اپنے محلہ کی بیواؤں، تیموں ، بے کسوں ، ضرورت مندوں کی خبر رکھو تو یہ کام میں بڑی خوشی سے با آسانی کر سکتا ہوں مگر پھر جماعت کی بیرونی ترقی کے تعلقات کم ہو جائیں گے۔میں بتا چکا ہوں کہ اب زمانہ اور طرز پر آ گیا ہے اب خلیفہ کیلئے صرف سلسلہ کے مرکز کا مقام ہی نہیں بلکہ باہر کی تمام جماعتوں کی باگ بھی براہِ راست اپنے ہاتھ میں رکھنی پڑتی ہے اور مخالفین سے بھی زیادہ تر خود ہی نپٹنا پڑتا ہے اور یہ کام ہے بھی سارا دماغ کے متعلق۔میں جب باہر نہیں آتا یا کوچہ بکوچہ پھر کر خبر گیری نہیں کرتا تو کئی لوگ سمجھتے ہوں گے کہ مزے سے اندر بیٹھا ہے۔انہیں کیا معلوم کہ میں تو سارا دن ترجمہ وغیرہ لکھنے یا جماعت کی ترقی کی تجاویز سوچنے ، ڈاک کا جواب دینے دلانے میں خرچ کر کے ان گرمی کے دنوں میں بھی رات کے ایک بجے تک اس کام کیلئے جاگتا رہا ہوں۔پھر تمہارے لئے دعائیں کرنا بھی میرا فرض ہے۔کبھی کبھی مجھے خیال آیا کرتا ہے کہ میں ہفتہ بھر کسی کو اپنے ساتھ رکھوں تا معلوم ہو کہ میں فارغ نہیں بیٹھا اور نہ آرام طلب۔غرض اب خلیفہ کے کام کی نوعیت بدل گئی ہے اور ان حالات کی موجودگی میں حضرت عمر کی تقلید مجھ پر ضروری نہیں اور نہ یہ سب کام ایک انسان کر سکتا ہے اور جب وہ نبی جسے خاص قومی دیئے جاتے ہیں جس کا میں خلیفہ ہوں نہیں کر سکا تو پھر مجھے پر کیا الزام آ سکتا ہے ہر جماعت کے مقامی فرائض پس زمانہ کے تغیر کے ساتھ تم بھی اپنی ذمہ دار یوں کو بدلو اور یہ کام خود کرو کہ اپنے اپنے مقامی ہے۔