خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 234

خلافة على منهاج النبوة ۲۳۴ جلد اول پھر پھر کر خبر گیری کیا کرتے تھے۔حضرت صاحب پر بھی بعض نادانوں نے ایسا ہی اعتراض کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو بعض اوقات روٹی نہیں کھاتے تھے کھجوریں کھا کر گزارہ کر لیتے تھے، زمین پر سوتے اور ادھر مرزا صاحب اچھے کپڑے پہنتے ہیں ، اچھا کھانا کھاتے ہیں۔ان نادانوں کو کیا معلوم کہ ہر سخن وقتے وہر نکته مقام وارد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تصنیف کا نہ تھا۔تبلیغ ہوتی تو زبانی۔ان کے اوقات اور قسم کے تھے اور مسیح موعود کے اور قسم کے۔( گو مقصد ایک ہی تھا ) تصنیف والے کے دماغ پر کچھ ایسا اثر ہوتا ہے کہ اگر اس کے کھانے کے متعلق خاص احتیاط نہ کی جائے ، اس کے بیٹھنے اور سونے کیلئے نرم بستر نہ ہو، نرم لباس نہ ہو تو اس کے اعصاب پر صدمہ ہواور وہ پاگل ہو جائے۔پس دماغی کام کرنے والوں کا قیاس ان لوگوں پر نہیں کرنا چاہئے جو اور قسم کے کام کرتے ہیں۔حضرت عمرؓ کتا بیں نہیں لکھا کرتے تھے اور نہ ان کے نام باہر سے اتنے لمبے لمبے سو سوا سو خطوط روزانہ آیا کرتے تھے جن کے جواب بھی ان کو لکھنے یا لکھانے پڑتے ہوں۔اُس وقت خلیفہ کے مشاغل زیادہ تر مقامی حیثیت میں رہتے تھے اور باہر سے کبھی مہینے دوسرے مہینے ڈاک آتی اور اُس کا بھی اکثر حصہ زبانی طے ہو جا تا۔مخالفین کے حملے بھی جنگ کی صورت میں ہوتے جن کا دفعیہ فوجوں کے ذریعہ ہو جاتا تھا۔اب تو سب کام دماغ سے ہی کرنے پڑتے ہیں۔مصالح سفر شملہ پچھلے دنوں میں ترجمہ کا کام کرتا رہا ہوں جس سے میرے دماغ پر اتنا بوجھ پڑا کہ ایسی حالت ہوگئی جو میں ایک سطر بھی لکھنے سے رہ گیا اور بخار ہو گیا اس لئے اب میرا ارادہ باہر جانے کا ہے۔اصل منشاء تو یہی ہے کہ ذرا سا آرام ہو سکے مگر پھر بھی میں اپنے فرائض اور اس کام سے جو خدا نے میرے سپرد کیا ہے غافل نہیں ہوں۔بعض رؤیا میں نے دیکھی ہیں جن کی بناء پر میں کہہ سکتا ہوں کہ کچھ اور مصالح بھی میرے سفر میں ہیں مجھے اس کی تفصیل نہیں معلوم ہوسکی کہ امر خیر ہے یا شرمگر ہے کچھ ضرور جو پیش آنے والا ہے۔