خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 7
خلافة على منهاج النبوة جلد اول عزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ إنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ یہ حاکم اپنی وفات تک اپنے عہدہ پر قائم رہتا ہے اور انسانوں کا اختیار نہیں کہ اُسے الگ کرسکیں کیونکہ اس کا انتخاب خدا کا یا اللہ تعالیٰ کے منتخب کردہ کا انتخاب قرار دیا گیا ہے اور قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خلیفہ ہم بناتے ہیں۔اسلامی خلیفہ کا طرز حکومت اس زمانہ میں جب کہ پارلیمنوں کا زور ہے اور لبرٹی لبرٹی کے آوازہ گسے سجا رہے ہیں، آزادی کی چیخ و پکار زوروں پر ہے ، حریت کی صدائیں اُفق عالم میں گونج رہی ہیں۔مسلمانوں میں بھی اس مسئلہ پر بحث شروع ہوگئی ہے کہ خلافتِ اسلامیہ کیا چیز ہے۔اور اکثر فدائیان یورپ اور شیدائیانِ تہذیب جدید اسلام میں بھی پارلیمنٹ کا وجود دکھانے میں کوشاں ہیں اور آیات و احادیث اور خلفائے راشدین کے عمل سے اپنے اقوال کے ثبوت بہم پہنچاتے ہیں۔گو میرے خیال میں اس کی کچھ ضرورت نہیں تھی اتنا کہہ دینا کافی تھا کہ نازنین یورپ کا میلان طبع اس قسم کی حکومت کی طرف ہے اس لئے محبانِ صادق کا یہی فرض ہے کہ اس کی ہاں میں ہاں ملائیں اور اس رنگ میں رنگین ہوں جس سے ان کا مطلوب مزین ہے۔جولوگ اس طر ز حکومت کی تائیدا اپنی عقل اور فہم سے کرتے تھے ان پر اتنا افسوس نہیں جتنا ان لوگوں پر جو پارلیمنٹ میں حکومت کو اپنی اصلی صورت میں یا بہ تغیر خفیف اسلام کے سر تھوپنا چاہتے ہیں۔فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ يَكْتُبُونَ الكِتب بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ ليَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا، فَوَيلُ لَّهُم مِّمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِّمَّا يَكْسِبُونَ ٣ چونکہ یہ فتنہ بڑھتا جاتا ہے اور عام طور پر لوگوں کو دھوکا دیا جاتا ہے اس لئے میں نے ارادہ کیا ہے کہ مختصر طور پر اسلامی خلافت پر اپنی تحقیق یہاں بیان کروں۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں قرآن شریف سے بیانِ خلافت کو خوشخبری دی ہے کہ وہ بنی اسرائیل کی طرح اُن میں سے بھی خلفاء بنائے گا چنانچہ فرماتا ہے۔