خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 225
خلافة على منهاج النبوة ۲۲۵ جلد اول بادشاہتوں کے قیام کا اندیشہ تھا اور جو بات چار سو سال بعد ہوئی وہ اُسی وقت ہو جانی ممکن ہی نہیں بلکہ یقینی تھی۔پس گو حضرت علی کا اُس وقت بیعت لینا بعض مصالح کے ماتحت مناسب نہ تھا اور اسی کی وجہ سے آپ پر بعض لوگوں نے شرات سے اور بعض نے غلط فہمی سے یہ الزام لگایا کہ آپ نَعُوذُ بِاللہ حضرت عثمان کے قتل میں شریک تھے اور یہ خطرہ آپ کے سامنے بیعت لینے سے پہلے حضرت ابن عباس نے بیان بھی کر دیا تھا اور آپ اسے خوب سمجھتے بھی تھے لیکن آپ نے اسلام کی خاطر اپنی شہرت وعزت کی کوئی پرواہ نہیں کی اور ایک بے نظیر قربانی کر کے اپنے آپ کو ہدف ملامت بنایا لیکن اسلام کو نقصان پہنچنے سے بچا لیا۔فَجَزَاهُ اللَّهُ عَنَّا وَعَنْ جَمِيعِ الْمُسْلِمِينَ جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں قاتلوں کے گروہ مختلف جہات میں پھیل گئے تھے اور اپنے آپ کو الزام سے بچانے کے لئے دوسروں پر الزام لگاتے تھے جب ان کو معلوم ہوا کہ حضرت علیؓ نے مسلمانوں سے بیعت لے لی ہے تو ان کو آپ پر الزام لگانے کا عمدہ موقع مل گیا اور یہ بات درست بھی تھی کہ آپ کے ارد گر د حضرت عثمان کے قاتلوں میں سے کچھ لوگ جمع بھی ہو گئے تھے اس لئے ان کو الزام لگانے کا عمدہ موقع حاصل تھا۔چنانچہ ان میں سے جو جماعت مکہ کی طرف گئی تھی اس نے حضرت عائشہ کو اس بات پر آمادہ کر لیا کہ وہ حضرت عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے لئے جہاد کا اعلان کریں چنانچہ اُنہوں نے اس بات کا اعلان کیا اور صحابہ کو اپنی مدد کے لئے طلب کیا۔حضرت طلحہ اور زبیر نے حضرت علی کی بیعت اس شرط پر کر لی تھی کہ وہ حضرت عثمان کے قاتلوں سے جلد سے جلد بدلہ لیں گے اُنہوں نے جلدی کے جو معنی سمجھے تھے وہ حضرت علی کے نزدیک خلاف مصلحت تھے ان کا خیال تھا کہ پہلے تمام صوبوں کا انتظام ہو جائے پھر قاتلوں کو سزا دینے کی طرف توجہ کی جائے۔کیونکہ اول مقدم اسلام کی حفاظت ہے قاتلوں کے معاملہ میں دیر ہونے سے کوئی حرج نہیں۔اسی طرح قاتلوں کی تعیین میں بھی اختلاف تھا جو لوگ نہایت افسردہ شکلیں بنا کر سب سے پہلے حضرت علیؓ کے پاس پہنچ گئے تھے اور اسلام میں تفرقہ ہو جانے کا اندیشہ ظاہر کرتے تھے ان کی نسبت حضرت علیؓ کو بالطبع شبہ نہ ہوتا تھا کہ یہ لوگ فساد کے بانی ہیں دوسرے لوگ ان پر شبہ