خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 6
خلافة على منهاج النبوة جلد اول دنیا میں ایک حاکم اور اُس کے انسان تو آزادی پسند ہے اگر سوائے بادشاہ کے گزارہ ہو سکتا تو یہ ضرور اس ما تحت حکام کے ہوا گزارہ نہیں طرح رہنا چاہتا لیکن حاکم کا سایہ سر سے اُٹھا اور فساد ہونے شروع ہوئے۔کوئی کسی کو قتل کرتا ہے ، کوئی کسی کا مال لوٹ لیتا ہے ، کوئی کسی کی جائداد پر قابض ہو جاتا ہے، کوئی کسی کو اپنا خادم اور غلام بنا لیتا ہے، کوئی کسی کی عزت آبرو کو غارت کرنے کی کوشش کرتا ہے غرضیکہ ہر ممکن سے ممکن طریقہ سے ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی دولت ، جائداد ، عزت اور اختیار کو زیادہ کرنا چاہتا ہے اس لئے ایک حاکم کی ضرورت پیش آتی ہے جو صاحب اختیار ہو اور مظلوم کی حمایت کرے اور ظالم کی خبر لے اور حقدار کو اُس کا حق دلائے۔لوگوں نے اپنی اپنی سمجھ اور فہم کے مطابق مختلف قسم کے حکام تجویز کئے ہیں کہیں تو ایسا کیا گیا ہے کہ ایک شخص کو کچھ مدت کے لئے اختیار دیئے جاتے ہیں وہ اس عرصہ میں انتظام کو قائم رکھتا ہے۔اس عرصہ کے ختم ہونے پر اس کی بجائے کوئی اور شخص مقرر ہو جاتا ہے۔کہیں ایک حاکم کی بجائے ایک جماعت مقرر کی جاتی ہے جو آپس کے مشورہ سے امور متعلقہ انتظام کا فیصلہ کرتی ہے۔کہیں ایک آدمی بادشاہ مقرر ہوتا ہے اور نَسُلاً بَعْدَ نَسل وہ خاندان حکومت کرتا چلا جاتا ہے اور ان کے معاملات میں کوئی شخص مشورہ دینے کا استحقاق نہیں رکھتا۔کہیں بادشاہ اور مجلس مشیراں ایسے رنگ کی ہوتی ہے کہ بادشاہ صرف برائے نام ہوتا ہے اور اصل کام سب پارلیمنٹ کرتی ہے۔اسلام نے ان تدابیر کے خلاف ایک حاکم اعلیٰ تجویز کیا ہے جو تین طرح مقرر ہوتا ہے۔یا اسے خود اللہ تعالیٰ مقرر فرماتا ہے جیسے آدم ، نوح وابراہیم اور موسی و داؤد و ہمارے رسول الله خاتم النبيين رَسُولُ رَبِّ العَلَمِينَ صَلوةُ اللهِ وَسَلامُهُ عَلَيْهِمْ اجمعین کو۔اور یا پہلا حاکم اُسے مقرر کرتا ہے یا مد ترین حکومت اُسے منتخب کرتے ہیں۔ان سب حکام کو حکم ہے مناسب لوگوں سے امور مملکت میں مشورہ طلب کیا کریں۔یہ بلکہ خود حضرت نبی کریم ﷺ کو بھی قرآن کریم میں ارشاد ہے وَ شَاوِرُهُمْ فِي الْأَمْرِ فَادًا