خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 5

خلافة على منهاج النبوة جلد اول ایسی خلافت نہیں ہے جیسے کہ آجکل کے بادشاہوں کی حکومت ہے کہ گو بظا ہر وہ بادشاہ کہلاتے ہیں لیکن دراصل کسی معاملہ میں آزادی سے رائے نہیں دے سکتے اور رعایا کی نسبت بھی ان کے حقوق کم ہوتے ہیں کیونکہ رعایا کسی حکم کے خلاف اپنی آواز اُٹھا سکتی ہے لیکن موجودہ بادشاہوں کو اتنا اختیار بھی نہیں دیا گیا۔اسلامی خلافت ایک شاندار چیز ہے جسے چھوڑ کر مسلمان کبھی سکھ نہیں پاسکتے۔اور یہ بھی سچ ہے کہ خلیفہ کا مقابلہ کر کے مسلمانوں پر ایسی نحوست طاری ہوگئی ہے کہ ان کی دعائیں تک اللہ تعالیٰ قبول نہیں کرتا۔لیکن ہم اس بات کے ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ وہ خلافتِ عثمانیہ کی مخالفت کا نتیجہ ہے بلکہ خدا کے مقرر کردہ خلیفہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی جانشین کی مخالفت کے سبب مسلمانوں پر یہ عذاب نازل ہوا ہے اور اُس وقت تک وہ ان مصائب سے نہیں چھوٹیں گے جب تک اس کی اطاعت کی طرف متوجہ نہ ہوں۔خدا کا منشاء ہے کہ وہ اس خلیفہ کی معرفت دنیا پر اسلام کو غالب کرے لیکن لوہے کے ہتھیاروں اور توپ کے گولوں کے ساتھ نہیں بلکہ نصرت الہی اور دعاؤں کے ساتھ۔جس خدا نے پہلے دشمن کی تلوار کا جواب تلوار سے دینے کا حکم دیا ہے اب اس خدا نے اسلام کے دشمنوں کا جواب دلائل صحیحہ اور برہان قاطعہ سے دینے کا حکم دیا ہے۔چونکہ اسلامی خلافت پر آجکل بہت زور سے بحث ہوتی ہے اور بعض لوگ قرآن و حدیث سے لوگوں کو مغالطہ میں ڈال رہے ہیں اس لئے میں اِنشَاءَ اللَّهُ تَعَالَی اگلے پرچہ میں اس مضمون پر کچھ لکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ۔لیکن سردار صاحب کو اتنا ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ آسمانی خلافت کی موجودگی میں وہ کیوں ایک وہمی خلافت کی تیاری کا مشورہ دیتے ہیں۔انہیں چاہیے کہ اس بات کو قبول کریں جسے خدا نے پسند کیا ہے“۔( الفضل 9 جولائی ۱۹۱۳ء ) پچھلے پر چه سردار والا گوہر صاحب کے مضمون کا خلاصہ دینے اور اس پر مناسب ریمارک کرنے کے بعد ہم نے وعدہ کیا تھا کہ اگلے ہفتہ اِنشَاءَ اللهُ خلافت اسلامیہ کے متعلق اپنی تحقیقات لکھیں گے۔سو الحَمدُ لِلَّهِ کہ آج اللہ تعالیٰ نے اس وعدہ کے پورا کرنے کا موقع دیا۔