خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 210
خلافة على منهاج النبوة ۲۱۰ جلد اول جہاں شورش ہے وہاں کے متعلق میرا مشورہ یہی ہے کہ وہاں کے حکام انتظام کی مضبوطی پر زور دیں۔حضرت عمرو بن العاص نے فرمایا کہ آپ بہت نرمی کرتے ہیں اور آپ نے لوگوں کو ایسے حقوق دے دیئے ہیں جو حضرت ابو بکر اور حضرت عمر نہ دیتے تھے۔پس آپ اب لوگوں سے ویسا ہی سلوک کریں جیسا کہ یہ دونوں کرتے تھے اور جس طرح نرمی سے کام لیتے ہیں سختی کے موقع پر سختی سے بھی کام لیں۔ان سب مشوروں کو سن کر حضرت عثمان نے فرمایا کہ یہ فتنہ مقدر ہے اور مجھے اس کا سب حال معلوم ہے کوئی سختی اس فتنہ کو روک نہیں سکتی۔اگر رو کے گی تو نرمی۔پس تم لوگ مسلمانوں کے حقوق پوری طرح ادا کرو اور جہاں تک ہو سکے ان کے قصور معاف کرو۔خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ میں نے لوگوں کو نفع پہنچانے میں کوئی کمی نہیں کی۔پس میرے لئے بشارت ہے اگر میں اسی طرح مر جاؤں اور فتنہ کا باعث نہ بنوں۔لیکن تم لوگ یہ بات یاد رکھو کہ دین کے معاملہ میں نرمی نہ کرنا بلکہ شریعت کے قیام کی طرف پورے زور سے متوجہ رہنا۔یہ کہہ کر سب حکام کو واپس روانہ کر دیا۔حضرت معاویہ جب روانہ ہونے لگے تو عرض کیا اے امیر المؤمنین ! آپ میرے ساتھ شام کو چلے چلیں سب فتنوں سے محفوظ ہو جائیں گے۔آپ نے جواب دیا کہ معاویہ! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمسائیگی کو کسی چیز کی خاطر بھی نہیں چھوڑ سکتا خواہ میرے چمڑے کی رسیاں ہی کیوں نہ بنا دی جائیں۔اس پر حضرت معاویہؓ نے عرض کیا کہ آپ یہ بات نہیں مانتے تو میں ایک لشکر سپاہیوں کا بھیج دیتا ہوں جو آپ کی اور مدینہ کی حفاظت کریں گے۔آپ نے فرمایا کہ میں اپنی جان کی حفاظت کے لئے ایک لشکر رکھ کر مسلمانوں کے رزق میں کمی نہیں کرنا چاہتا۔حضرت معاویہؓ نے عرض کیا کہ امیر المؤمنین ! خدا کی قسم ! آپ کو شریر لوگ دھوکا سے قتل کر دیں گے یا آپ کے خلاف جنگ کریں گے آپ ایسا ضرور کریں۔لیکن آپ نے یہی جواب دیا کہ میں ایسا نہیں کر سکتا خدا میرے لئے کافی ہے۔پھر حضرت معاویہ نے عرض کیا کہ اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو پھر یہ کریں کہ شرارتی لوگوں کو بڑا گھمنڈ بعض اکابر صحابہ پر ہے اور وہ خیال کرتے ہیں کہ آپ کے بعد وہ کام سنبھال لیں گے اور ان کا نام لے لے کر لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں آپ ان سب کو مدینہ سے رخصت کر دیں اور