خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 4

خلافة على منهاج النبوة جلد اول قرآن شریف سے ثابت ہے اور پارلیمنٹ بھی مشیروں کی ایک مجلس ہے پھر اس کو کیوں مخالف ہدایت اسلامی کہا جائے۔اس اعتراض کا جواب میں یہ دوں گا کہ مجلس شوری جس کا اشاره قرآن شریف میں ہے ہر گز پارلیمنٹ کے درجہ میں ذی اختیار نہیں بلکہ ان کا صرف یہ کام ہوتا ہے کہ مُہمات ملکی میں اپنا مشورہ اُولی الامر کے سامنے پیش کریں اگر أولى الأمر نے مان لیا بہتر ورنہ حکم اولی الامر اس پر غالب رہتا ہے۔پھر آگے چل کر لکھتے ہیں کہ پارلیمنٹ تو خود ہی صاحب حکم بن جاتی ہے۔مسلمانوں میں کبھی بھی اس قسم کی پارلیمنٹ جاری نہیں ہوئی۔البتہ خلیفہ بمشورہ قوم منتخب ہوا کرتا تھا مگر بعد انتخاب کے جب تک وہ مسندِ حکومت پر رہتا تھا اُس کا حکم سب پر واجب التعمیل ہوا کرتا تھا۔خدا نے مسلمانوں کو مشورہ کا حکم دیا ہے نہ پارلیمنٹ کا۔یہ مسلمانوں پر غلط الزام ہے کہ اُنہوں نے پارلیمنٹ کا عنصر ڈالا ہے۔پھر آگے چل کر لکھتے ہیں کہ اب دوسری دلیل سنو جو یہ ہے کہ خدا نے اپنے حکم کی فرمانبرداری کا ارشاد کیا اور رسول کے حکم کی اور پھر تیسرے درجہ میں اُولی الامر کے۔اس حکم کی آیت سے اُولی الامر کا وجود ضرور ہے کہ مسلمانوں میں موجود ہوا اور وہ شخص خاص ہونا چاہیے۔بعض اشخاص جو اس آیت سے علمائے وقت مراد لیتے ہیں وہ میرے خیال میں صحیح نہیں ہے۔کیا معنی کہ ایک ہی زمانہ میں بہت سے عالم صاحب اجتہاد ہوتے ہیں اور ہر ایک کا اجتہاد جدا گانہ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ شخص مطیع ایک ہی وقت میں جدا گانہ اجتہادوں کی تعمیل کر سکے۔تعمیل تو اُس حکم کی ہو سکتی ہے جس میں اختلاف نہ ہو کیونکہ رعایا پر فرض کیا گیا ہے کہ جب تک حکم خدا و رسول کی مخالفت نہ ہو اولی الامر کا حکم دل و جان سے قبول کر کے تعمیل کریں۔پھر آگے چل کر کیا سچا فقرہ لکھتے ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں کیونکہ یہ خود ہی مجرم ہیں۔ہم سردار والا گو ہر صاحب کی تحریر کے ساتھ بالکل متفق ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام نے خلافت کا حکم دیا ہے اور جس کے ماتحت رہنے کی گل مسلمانوں کو تاکید کی ہے وہ