خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 194

خلافة على منهاج النبوة ۱۹۴ جلد اول خود علم کی ضرورت ہے قرآن شریف عربی زبان میں ہے اس لئے جب تک عربی نہ آتی ہو اس کے پڑھنے میں لذت نہیں آسکتی اور نہ اس کے احکام سے انسان واقف ہوسکتا ہے۔پس تم۔عربی سیکھو تا کہ قرآن شریف کو سمجھ سکو۔ابھی میر حامد شاہ صاحب نے ایک نظم پڑھی۔عجیب بات ہے کہ اس میں اُنہوں نے ایک شعر ایسا بھی کہا ہے کہ اسی کے مضمون کے متعلق میں اس وقت تقریر کرنے کے لئے کھڑا ہوا ہوں اور وہ یہ ہے کہ تم بار بار قادیان آؤ اور آ کر قرآن سیکھو تا بعد میں آنے والوں کو سکھا سکو۔اگر تم اس کے لئے تیار نہ ہوئے تو یاد رکھو کہ ایک عرصہ تک تو بیشک تمہیں عزت حاصل ہوگی لیکن ایسا زمانہ آئے گا جب کہ تم خاک میں ملائے جاؤ گے اور تم سے آنے والے لوگ جن میں خشیت اللہ نہ ہوگی وہی سلوک کریں گے جو صحابہ کے ساتھ ان لوگوں نے کیا جو بعد میں آئے تھے کہ انہیں قتل کرا کر ان کی لاشوں تھو کا اور دفن نہ ہونے دیا۔دیکھو میں آدمی ہوں اور جو میرے بعد ہوگا وہ بھی آدمی ہی ہوگا جس کے زمانہ میں فتوحات ہوں گی وہ اکیلا سب کو نہیں سکھا سکے گا تم ہی لوگ ان کے معلم بنو گے۔پس اس وقت تم خود سیکھوتا ان کو سکھا سکو۔خدا تعالیٰ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم لوگ دنیا کے لئے پروفیسر بنا دیے جاؤ۔اس لئے تمہارے لئے ضروری ہے اور بہت ضروری ہے کہ تم خود پڑھو تا آنے والوں کے لئے استاد بن سکو۔اگر تم نے خود نہ پڑھا تو ان کو کیا پڑھاؤ گے۔ایک نادان اور جاہل استاد کسی شناگر دکو کیا پڑھا سکتا ہے۔کہتے ہیں ایک استاد تھا اس نے چند خطوط پڑھے ہوئے تھے جو کوئی خط لا کر دیتا اسے انہیں خطوں میں سے کوئی ایک سنا دیتا۔ایک دن ایک شخص خط لا یا اُس وقت اُس کے پاس اپنے پہلے خط موجود نہ تھے اس لئے نہ پڑھ سکا اور کہنے لگا کہ میں طاق والے خط پڑھ سکتا ہوں۔پس تم بھی اس خط کے پڑھنے والے کی طرح نہ بنو۔آپ لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ اپنے اندر اخلاص اور خشیت پیدا کرو اور علم دین سیکھو اور اپنے دلوں کو صیقل کرو تا کہ جو لوگ تم میں آئیں ان کو تعلیم دے سکو اور ان میں خشیت اللہ پیدا کر سکو۔صحابہ کے وقت جوفتنہ ہوا تھا وہ اسی بات کا نتیجہ تھا کہ وہ لوگ مدینہ میں نہ آتے تھے اور اُنہوں نے قرآن شریف نہ