خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 192
خلافة على منهاج النبوة ۱۹۲ جلد اول کہ تقویٰ اور خشیت اللہ پیدا کرو۔کیونکہ اگر یہ نہ ہو تو علم ایک عذاب ہے نہ کہ کوئی مفید چیز۔تم قرآن شریف پڑھو اور خوب پڑھو کیونکہ بے علم انسان نہیں جانتا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے کیا کیا حکم دیئے ہیں لیکن یہ بھی یاد رکھو کہ کئی انسان ایسے ہوتے ہیں جو قرآن شریف جانتے ہیں مگر خود گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو گمراہ کرتے پھرتے ہیں اور اس طرح کے ہو گئے ہیں جس طرح کہ یہود کے عالم تھے جن کا ذکر قرآن شریف میں آتا ہے۔وہ جانتے ہیں کہ قرآن شریف وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھا مگر جانتے ہوئے نہیں جانتے۔وہ مولوی اور مفتی کہلاتے ہیں مگر ان کے اعمال میں اسلام کا کوئی اثر نہیں پایا جاتا۔قرآن شریف کے معنوں کی ایسی ایسی تو جیہیں نکالتے اور ایسی ایسی شرارتیں کرتے ہیں کہ ان کے دل بھی انہیں شرمندہ کرتے ہیں۔عالم کہلاتے ہیں مگر عمل نہیں کرتے۔اس لئے گو انہوں نے علم پڑھا مگر ان کا علم ان کے کسی کام نہ آیا اور وہ گمراہ کے گمراہ ہی رہے۔پس خشیت اللہ کی بہت ضرورت ہے۔اس کے پیدا کرنے کے طریق نبیوں کے زمانہ میں بہت سے ہوتے ہیں۔کیوں؟ اس لئے کہ وہ انسان کو سانچے میں ڈھال دیتے ہیں اور خودنمونہ بن کر لوگوں کو سکھلاتے ہیں۔یہ ایک ثابت شدہ بات ہے کہ ہر ایک کام جس طرح کسی استاد کے بتانے اور تجربہ کر کے دکھانے سے آتا ہے اس طرح خود بخو د کتابوں میں سے پڑھ لینے سے نہیں آیا کرتا۔مثلاً اگر کوئی شخص ڈاکٹری کی کتابیں پڑھ لے لیکن اسے تجربہ نہ ہو تو وہ لوگوں کا علاج کرنے کی بجائے ان کو مارے گا۔کیونکہ علاج وہی کر سکتا ہے جس کو تجر بہ بھی ہو اور جسے اس نے کسی استاد سے سیکھا ہو۔مگر جس نے کسی استاد کو دیکھا ہی نہ ہو اس کے علاج سے بہت مرتے اور کم جیتے ہیں اور جو جیتے ہیں وہ بھی اس لئے نہیں کہ اس کی دوائی اور علاج سے بلکہ اپنی طاقت اور قوت سے۔پس خشیت اللہ نبی کی صحبت سے جس طرح حاصل ہوتی ہے اس طرح کسی اور طریق سے نہیں حاصل ہوسکتی۔پس تم میں سے تو بہت سے ایسے ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت سے اس کو سیکھا ہے۔اس لئے تم اس زمانہ کے لئے ہوشیار ہو جاؤ جب کہ فتوحات پر فتوحات ہوں گی۔عنقریب ایک زمانہ آتا