خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 3 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 3

خلافة على منهاج النبوة جلد اول خلافت اسلامیہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب جب اخبار الفضل کے ایڈیٹر تھے تو اُس وقت بہت سے مضامین خود تحریر فرمایا کرتے تھے۔پیسہ اخبار نے جب سردار والا گوہر صاحب پنشنر ڈسٹرکٹ حج لدھیانہ کا ایک مضمون خلافت عثمانیہ کے بارے میں شائع کیا تو آپ نے اس مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے اس پر ایک تبصرہ تحریر کرتے ہوئے خلافت اسلامیہ کی حقیقت ان الفاظ میں بیان فرمائی :۔ہم عصر پیسہ اخبار نے اپنی ایک پچھلی اشاعت میں سردار والا گوہر صاحب پنشنر ڈسٹرکٹ جج لدھیانہ کا ایک مضمون شائع کیا ہے جس میں اُنہوں نے خلافت عثمانیہ پر نہایت عمدگی اور خوبی کے ساتھ بحث کی ہے اور ثابت کیا ہے کہ موجودہ خلافت قطعاً اسلامی خلافت کہلانے کی مستحق نہیں ہے کیونکہ اس میں تمام ان امور کی پابندی نہیں کی جاتی جو اسلامی خلافت کے لئے ضروری ہیں اور پارلیمنٹ کے وجود سے اس شیرازہ قومی کو بالکل بکھیر دیا گیا ہے جو اسلام نے خلافت کے رشتہ میں باندھ دیا تھا۔انہوں نے دنیاوی نقطہ نظر سے بھی اس بات کو ثابت کیا ہے کہ ایک ایسے ملک میں جس میں یہودی اور مسیحی کثرت سے آباد ہوں پارلیمنٹ کبھی مسلمانوں کو راس نہیں آ سکتی کیونکہ پارلیمنٹ تو باشندوں کے قائم مقاموں کا مجموعہ ہوتی ہے اگر پورے طور سے اس میں باشندوں کو نیابت دی گئی تو حکومت بجائے مسلمانوں کے مسیحیوں کے قبضہ میں چلی جائے گی۔خصوصاً جب کہ ان کی پشت پر بہت سی مسیحی حکومتیں ہیں جو ان کے قول کی تائید کے لئے ہر وقت آمادہ وتیار رہیں گی۔دنیا وی پہلو سے بہت زیادہ اہم مذہبی پہلو ہے اور اس پہلو کو بھی انہوں نے جس خوبی سے نباہا ہے اس پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔وہ لکھتے ہیں کہ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ مشورہ