خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 191

خلافة على منهاج النبوة ۱۹۱ جلد اول رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت خواہ ایک دن ہی پائی ہو۔اصل بات یہ ہے کہ وہ جو صحابہ میں اعلیٰ درجہ رکھتا ہے وہ ان بعد میں آنے والوں سے اعلیٰ ہے لیکن وہ جو ان میں ادنی ہے اس سے بعد میں آنے والوں کا اعلیٰ طبقہ اعلیٰ ہے۔ہاں سب صحابہ کو یہ ایک جز وی فضیلت حاصل ہے کہ اُنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک دیکھا جس کے لئے اب اگر کوئی ساری دنیا کی سلطنت بھی دینے کو تیار ہو جائے تو حاصل نہیں کر سکتا۔یہی بات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کے متعلق ہے۔غرض وہ وقت آتا ہے کہ ایسے لوگ اس سلسلہ میں شامل ہوں گے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت نہ پائی ہوگی اور اس کثرت سے ہوں گے کہ ان کو ایک آدمی یر نہیں سنا سکے گا اس لئے اُس وقت بہت سے مدرسوں کی ضرورت ہوگی اور پھر اس بات کی بھی ضرورت ہوگی کہ ایک شخص لاہور میں ایک امرتسر میں بیٹھا سنائے اور لوگوں کو دین سے واقف کرے اور احکام شرع پر چلائے تا کہ تمام جماعت صحیح عقائد پر قائم رہے اور تفرقہ سے بچے۔کل میں نے آپ لوگوں کو یہ بتایا تھا کہ علم ایک بہت اچھی چیز ہے اس کو حاصل کر نے کے لئے کوشش کرو لیکن آج بتاتا ہوں کہ علم بغیر خشیت اور تقویٰ کے ایک لعنت ہے اور ایسا علم بہت دفعہ حجاب اکبر ثابت ہوا ہے۔دیکھو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ایک عالم آدمی ہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر وہ ایمان نہ لائے بلکہ اُنہوں نے کہہ دیا کہ میں نے ہی مرزا کو بڑھایا تھا اور میں ہی گھٹاؤں گا۔گویا اُنہوں نے اپنے علم کے گھمنڈ پر سمجھا کہ کسی کو میں ہی بڑھا سکتا ہوں اور میں ہی گھٹا سکتا ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے پہلے ایک شخص شرک کے خلاف تعلیم دیا کرتا تھا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو کسی شخص نے اسے اسلام کی تلقین کی۔اس نے جواب دیا کہ شرک کے مٹانے میں جو محنت اور کوشش میں نے کی ہے وہ اور کسی نے نہیں کی پس اگر کوئی شخص دنیا میں نبی ہوتا تو وہ میں ہوتا یہ شخص نبی کیونکر بن گیا۔وہ شخص گو تو حید کا علم رکھتا تھا لیکن بوجہ خشیت نہ ہونے کے اسلام لانے سے محروم ہو گیا۔پس میں آپ لوگوں کو یہی نہیں کہتا کہ علم سیکھو بلکہ یہ بھی کہتا ہوں