خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 190
خلافة على منهاج النبوة 19+ جلد اول فرمانبرداری کا وہ جوش نہ ہو گا جو آپ لوگوں کے دلوں میں ہے۔سوائے ان لوگوں کے جن کے سینے خدا تعالیٰ خاص طور پر خود کھول دے۔اس میں شک نہیں کہ صحابہ کرام کے بعد بھی ایسے لوگ ہوئے ہیں جنہوں نے پہلوں کی طرح ایمان اور یقین حاصل کر لیا تھا اور ان جیسی ہی صفات بھی پیدا کر لی تھیں۔مثلاً امام مالک، امام شافعی ، امام احمد بن حنبل، امام ابوحنیفه شیخ عبدالقادر جیلانی ، شہاب الدین سہروردی ، معین الدین چشتی و غیرھم۔ان لوگوں نے محنتیں اور کوششیں کیں اس لئے ان کے دل پاک ہو گئے۔مگر جس کثرت سے صحابہ میں ایسے لوگ تھے اس کثرت سے بعد میں نہ ہو سکے۔بلکہ بعد میں کثرت ان لوگوں کی تھی جن میں بہت سے نقص موجود تھے اور قلت ان کی تھی جو صحابہ جیسی صفات رکھتے تھے۔لیکن صحابہؓ کے وقت کثرت کامل ایمان والوں کی تھی۔ہماری جماعت میں اس وقت خدا کے فضل سے کثرت ان لوگوں کی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت میں رہے اور قلت ان کی ہے جو بعد میں آئے لیکن یہ کثرت ایسی ہے جو دن بدن کم ہوتی جا رہی ہے۔میرا مطلب اس تقریر سے یہ نہیں کہ نبی کے بعد اعلیٰ درجہ کے لوگ ہوتے ہی نہیں۔نہیں ! اعلیٰ درجہ کے لوگ ہوتے ہیں اور ضرور ہوتے ہیں جیسا کہ ابھی میں نے بعض آدمیوں کے نام لئے ہیں جنہوں نے صحابہ کے بعد بڑا درجہ حاصل کیا۔اپنی جماعت کے متعلق بھی آج ہی ایک شخص نے مجھ سے سوال کیا تھا کہ کیا بعد میں آنے والے وہ درجہ پا سکتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت پانے والوں نے پایا ؟ تو میں نے اسے جواب دیا کہ ہاں وہ درجہ پاسکتے ہیں۔پس اس تقریر کا یہ مطلب نہیں کہ میں بعد میں آنے والے لوگوں کو مایوس کروں بلکہ میرا مطلب تمہیں اور اُن کو ہوشیار کرنا ہے۔تمہیں اس لئے کہ تائم آنے والوں کی تعلیم کا فکر کرو اور انہیں اس لئے تا وہ جان لیں کہ ان کے راستہ میں بہت سی مشکلات ہیں وہ ان پر غالب آنے کی تدبیر کریں۔ورنہ یہ عقیدہ کہ نبی کی جماعت کے بعد کوئی ان کے درجہ کو پاہی نہیں سکتا ایک غلط اور باطل عقیدہ ہے جو جھوٹی محبت سے پیدا ہوا ہے۔صحابہ کے بعد بڑے بڑے مخدوم ، بڑے بڑے بزرگ اور بڑے بڑے اولیاء اللہ گزرے ہیں جن کی نسبت ہم ہرگز نہیں کہہ سکتے کہ وہ سب کے سب ہر ایک اس شخص سے روحانیت میں ادنیٰ تھے جس نے