خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 170
خلافة على منهاج النبوة 12 + جلد اول لئے شائع کئے تھے اور کچھ بعض آدمی امرتسر اور لاہورسٹیشنوں پر اس غرض کے لئے گئے تھے کہ لوگوں کو روک کر لا ہور اُتار لیں یا لاہور لے جائیں۔بعض مہمانوں سے جھگڑا بھی ہو گیا لیکن اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا کہ باوجود اس کے کہ وہ لوگ غلطی سے اصرار سے بڑھ کر تکرار تک نوبت پہنچا دیتے تھے کہ آپ لاہور کیوں نہیں جاتے لیکن کسی قسم کا دنگہ نہ ہوا اور لوگوں کو ہنسی کا موقع نہیں ملا۔شاید کسی شخص نے اس واقعہ کو میری طرف منسوب کر دیا ہو مگر حق یہی ہے کہ یہ واقعہ آپ کے دوستوں کی طرف سے ہوا ہے میری طرف سے ہر گز نہیں ہوا۔خواجہ صاحب اپنے لیکچر میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ میں نے کیوں مولوی شیر علی صاحب کو ولا بیت جانے سے روک دیا حالانکہ میں خلیفہ اول سے وعدہ کر چکا تھا کہ میں آپ کے حکم بھی مانوں گا اور آپ کے بعد کے خلفاء کا بھی۔حالانکہ مجھے حضرت ابو بکر اور ابو عبیدہ کی مثال یاد کرنی چاہیے تھی۔میں حیران ہوں کہ خواجہ صاحب نے میرے وعدہ سے میرے عمل کو مخالف کس طرح سمجھا۔میں نے کہا تھا کہ حضرت خلیفہ اول کا حکم بھی مانوں گا اور بعد کے خلفاء کا بھی۔حضرت کی زندگی تک میرا فرض تھا کہ آپ کے حکم مانتا اور بعد میں جو خلیفہ ہوتا اُس کے حکم ماننا میرا فرض تھا۔قدرت ایزدی نے خلافت مجھے ہی سپر د کر دی تو اب مسیح موعود علیہ السلام کے احکام کے ماتحت میرا ہی حکم ماننا ضروری تھا اور میں نے حالاتِ وقت کے ماتحت مناسب فیصلہ کر دیا۔ایک خلیفہ کا حکم اُسی وقت تک چلتا ہے جب تک وہ زندہ ہو۔اُس کے بعد جو ہو اُس کا حکم ماننے کے قابل ہے۔یہ مسئلہ آپ نے نیا نکالا ہے کہ ہر ایک خلیفہ کا حکم ہمیشہ کے لئے قابل عمل ہے یہ درجہ تو صرف انبیاء کو حاصل ہے کہ ان کے احکام اس وقت تک جاری رہتے ہیں۔جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی پا کر کوئی نیا نبی انہیں منسوخ نہ کرے۔خلفاء کی یہ حیثیت تو صرف آپ کی ایجاد ہے صحابہ ابو بکر ، عمر، عثمان ، علی رضی اللہ عنہم میں سے ہر ایک کے فرمانبردار تھے۔لیکن ان میں سے ہر ایک بعد میں آنے والے نے اپنے سے پہلے کے چندا حکام کو منسوخ کیا یا بعض انتظامات کو بدل دیا لیکن کسی صحابی نے نہ کہا کہ ہم تو پہلے کے فرمانبردار ہیں اس لئے آپ کا حکم نہ مانیں گے۔حضرت عمرؓ نے خالد کو جو حضرت ابوبکر کے مقرر کردہ سپہ سالار تھے معزول کر دیا۔ان پر کسی نے اعتراض نہ کیا کہ