خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 165
خلافة على منهاج النبوة ۱۶۵ جلد اول دوں سو یا د رکھو کہ اس طرح سے اگر کسی شخص کو مسلم کا حق دلا دوں تو یہ مال آگ کا ٹکڑا ہے اب چاہے تو اُسے اُٹھا لے اور چاہے تو چھوڑ دے۔پس کیا آپ کے فیصلہ کو بھی رڈ کر دینا چاہیے کہ ممکن ہے آپ سے غلطی ہوگئی ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرٌ بينهم ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تسليما یعنی تیرے رب کی ہی قسم ! یہ اُس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتے جب تک تجھ سے جھگڑوں کا فیصلہ نہ چاہیں اور پھر فیصلوں اور قضا یا کو خوشی سے تسلیم نہ کریں۔کیا گورنمنٹ اور اس کے مجسٹریٹ خطاء سے محفوظ ہوتے ہیں؟ اگر نہیں تو کیا اس بناء پر گورنمنٹ اور جھوں کے فیصلے رڈ کر دیئے جاتے ہیں کہ ممکن ہے کہ وہ غلطی کرتے ہوں۔کیا خلیفۃ المسیح جن کی بیعت آپ نے کی تھی خطاء سے محفوظ تھے؟ پھر میں پوچھتا ہوں کہ کیا انجمن اپنے فیصلہ میں کبھی غلطی نہیں کر سکتی ؟ پھر انجمن جماعت کی حاکم کیونکر ہوسکتی ہے؟ اگر صرف مَصْتُون عَنِ الْخَطَاء کے فیصلے ہی واجب العمل ہوتے ہیں تو پھر دنیا کی سب حکومتیں سب انجمنیں مٹادینی چاہئیں کیونکہ انسان کوئی مصنونَ عَنِ الْخَطَاءِ نہیں۔نماز ہمارے لئے دلیل ہے امام غلطی کرتا ہے اور خطاء سے پاک نہیں ہوتا مقتدیوں کو حکم ہے کہ باوجود اس کی غلطی کے اس کی اتباع کریں کیونکہ اتحاد رکھنا ضروری ہے اور اتحاد بغیر ایک مرکز کے نہیں ہوسکتا اور خواہ ایک انسان افسر ہو یا بہت سے ہوں وہ غلطی سے پاک نہیں ہو سکتے پس اتحاد کے قیام کیلئے قیاسات میں امام کی خطا کی بھی پیروی کرنے کا حکم ہے سوائے نصوص صریحہ کے۔مثلاً کوئی امام کہے کہ نما ز مت پڑھو، کلمہ نہ پڑھو، روزہ نہ رکھو اس کی اتباع فرض نہیں اور یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک امام اگر چار کی بجائے پانچ یا تین رکعت پڑھ کر سلام پھیر دے تو مقتدیوں کو حکم ہے کہ باوجود اس کی غلطی کے علم کے اس کی اتباع کریں۔لیکن اگر وہ اُٹھ کر ناچنے لگ جائے یا مسجد میں دوڑ نے لگے تو اب مقتدیوں کو حکم نہیں کہ اس کی اتباع کریں کیونکہ اب قیاس کا معاملہ نہیں رہا بلکہ جنون یا شرارت کی شکل آگئی ہے لیکن یہ مثالیں بفرض محال ہیں ورنہ خدائے تعالیٰ جس کو امام