خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 164
خلافة على منهاج النبوة ۱۶۴ جلد اول ہندوؤں سے ملتا تھا، مسیحیوں سے ملتا تھا لیکن مرزا سلطان احمد صاحب سے کبھی نہیں ملتا تھا اور کئی دفعہ جب حضرت خلیفہ اول نے کوشش کی کہ آپ کو ان سے ملائیں تو آپ نے نہایت سختی سے انکار کر دیا اور آخر مولوی صاحب کو منع کر دیا کہ پھر ایسا ذکر نہ کریں۔اب بتائیے اس تعلق میں اور ہندوؤں کے تعلق میں کچھ فرق معلوم ہوتا ہے یا نہیں؟ بیٹے سے تو ملتے نہ تھے اور لالہ شرمیت گھنٹہ گھنٹہ آپ کے پاس آکر بیٹھ رہا کرتے تھے۔پس آپ ان مثالوں سے سمجھ لیں کہ کبھی ضروریات ایسا مجبور کرتی ہیں کہ باوجود اس کے کہ غیروں سے ملتے رہیں بعض اپنوں سے ملنا چھوڑ دیا جائے۔آپ نے اپنے حال پر غور نہیں کیا کہ غیر احمد یوں کو مسلمان بنانے کے لئے آپ نے احمدیوں کو کا فرثابت کیا ہے۔پھر جب آپ خود اس مجبوری کا شکار ہوئے ہیں تو دوسروں پر اعتراض کی کیا وجہ ہے۔پھر اخبار پیغام لاہور محمد حسین بٹالوی اور مولوی ثناء اللہ کے خلاف کچھ نہیں لکھتا لیکن اس کا سارا زور ہمارے خلاف خرچ ہو رہا ہے کیا یہ مثال آپ کے لئے کافی نہ تھی ؟ آپ نے خلافت پر اعتراض کرتے ہوئے ایک جگہ لکھا ہے کہ کیا خلیفہ غلطی سے مضمون ہے مگر میں کہتا ہوں کہ اگر اسی کا فیصلہ مانا شرط ہو جو غلطی۔مضون اور محفوظ ہو تو آپ بتائیں کہ کس انسان کا فیصلہ آپ مانیں گے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسا انسان جوگل کمالات انسانیہ کا خاتم ہے فرماتا ہے۔عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ سَمِعَ جَلَبَةٌ خَصْمٍ بِبَابِ حُجْرَتِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّهُ يَأْتِينِي الْخَصْمُ فَلَعَلَّ بَعْضُهُمْ أَنْ يَكُونَ أَبْلَغَ مِنْ بَعْضٍ فَأَحْسِبَ أَنَّهُ صَادِق فَاقْضِى لَهُ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ مُسْلِمٍ فَإِنَّمَا هِيَ قِطْعَةٌ مِّنَ النَّارِ فَلْيَحْمِلُهَا أَوْ يَذَرُهَا و ترجمہ: ام سلمہ (اُم المؤمنین ( رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ مکان کے دروازہ کے پاس چند آدمیوں کا باہمی مقدمہ کی بابت شور وشغب سن کر ان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمانے لگے میں ایک بشر ہوں ( عالم الغیب نہیں ) لوگ میرے پاس مقد مے لے کر آتے ہیں سو ممکن ہے کہ ایک فریق بات کرنے میں زیادہ ہوشیار ہو اور اس کی باتوں کی وجہ سے میں اُسے سچا خیال کر کے اس کے حق میں فیصلہ دے