خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 163

خلافة على منهاج النبوة ١٦٣ جلد اول كا سے نہ ملیں نہ بولیں اس کی وجہ مجھے اس کے بغیر کوئی نہیں سمجھ میں آئی کہ انہوں نے آپ کی مذکورہ بالا کا رروائی کو محسوس کر لیا اور جماعت کو خطرہ سے آگاہ کر دیا اور چونکہ آپ کی اس کارروائی کا نتیجہ سوائے اس کے اور کچھ نہ تھا کہ فساد اور بڑھے گو آپ کا منشاء صلح کا ہی ہو اس لئے مضمون لکھنے والے نے پسند نہ کیا کہ جماعت میں فساد بڑھے اور اس نے تحریک کی کہ لوگ آپ سے نہ ملیں اگر فیصلہ کرنا تھا تو براہِ راست مجھ سے ہوسکتا تھا اور یہ امر کہ کیوں آپ سے وہ سلوک کیا گیا جو ہندوؤں اور مسیحیوں سے نہیں کیا جاتا۔اس کا جواب آسان ہے۔مسلمان یہود اور مسیحیوں سے کلام کرتے تھے لیکن اگر آپ کو یاد ہو تو الثَّلَثَةِ الّذينَ خُلّفوا جن کے واقعہ کی طرف سورۃ تو بہ میں اشارہ کیا گیا ہے ان کا مفصل ذکر بخاری میں آتا ہے۔ان تین سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کلام منع کر دیا تھا اور مسلمان ان سے نہ بولتے نہ ملتے نہ تعلق رکھتے حتی کہ بیویوں کو بھی جدا کر دیا تھا۔کیا کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ کیا وہ تین منافقوں سے بھی بدتر تھے ؟ کیا وہ یہود سے بھی بدتر تھے ؟ پھر کیا وہ مشرکوں سے بھی بدتر تھے ؟ اور اگر ان سے یہ سلوک کیا گیا تو مسیحیوں اور یہودیوں سے اس سے سخت کون سا سلوک کیا گیا۔مگر آپ جانتے ہیں کہ یہ اعتراض غلط ہے ان کو سرزنش کی ایک خاص وجہ تھی اور انتظام جماعت کے قائم رکھنے کے لئے ایسا کرنا پڑتا ہے۔دنیا وی حکومتیں بھی میدانِ جنگ کے سپاہی کو پکڑ کر صلیب پر نہیں لڑکا تیں حالانکہ وہ کئی خون کر چکا ہوتا ہے اور اپنے ملک کے مجرموں کو سزائیں دیتی ہیں کیوں؟ اسی لئے کہ اس سپاہی کا کام تھا کہ وہ ان کا مقابلہ کرتا مگر یہ اپنے تھے اور اپنے کا فرض ایک طرف تو یہ تھا کہ امن کو قائم رکھے جس کے خلاف اس نے کیا۔دوسرے اس سپاہی کا حملہ ظاہر ہے اور اس اپنے کا حملہ اندر ہی اندر تباہ کر سکتا ہے پس جن لوگوں سے یہ خوف ہو کہ ایک حد تک اپنے بن کر مخالفت کریں گے اُن سے بچنا اور بچانا ایک ضروری بات ہے۔دوسرے اپنے غلطی کریں تو وہ زیادہ سزا کے مستحق ہوتے ہیں۔آجکل کی مثال لے لیجئے وہ رحیم کریم انسان جو شفقت علی خلق اللہ کا کامل نمونہ تھا اور یقیناً اسی کے منہ سے اور اسی کی تحریروں سے ہم نے یہ بات معلوم کی ہے کہ اسلام کی دو ہی غرضیں ہیں ایک تعلق باللہ اور دوسری شفقت علی خلق اللہ۔وہ