خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 162
خلافة على منهاج النبوة ۱۶۲ جلد اول چاہیے۔اول تو یہ سوال ہے کہ یہ مضمون کب نکلا اور آپ لا ہور کب تشریف لائے۔اگر آپ کا ارادہ تھا کہ فورا ہی قادیان آئیں تو اس امر سے کونسی چیز آپ کو مانع ہوئی کہ آپ ایک عرصہ تک لاہور میں بیٹھے رہے اور فوراً نہ آسکے اتنے میں وہ مضمون نکل گیا۔پس اول تو یہ آپ کا فوراً ظاہر کرتا ہے کہ الفضل کا وہ مضمون ایک بہانہ کا کام دے رہا ہے۔پھر میں پوچھتا ہوں کہ آپ نے مجھ سے ملنا تھا یا لوگوں سے؟ لوگ آپ سے ملتے یا نہ ملتے ؟ اگر آپ تبادلۂ خیالات چاہتے تھے تو مجھے سے ملتے۔اگر آپ کہیں کہ مجھے یہ کیونکر معلوم ہو سکتا تھا کہ آپ مل لیں گے تو میں کہتا ہوں کہ اب تو کسی بڑے خرچ کی بھی ضرورت نہیں ایک پیسہ کے کارڈ کے ذریعہ سے آپ مجھ سے پوچھ سکتے تھے کہ اگر میں آؤں تو تم مجھ سے بات کر سکو گے یا نہیں؟ یا الفضل کے مضمون کے مطابق مجھ سے ملنا پسند نہ کرو گے۔اگر اس خط کا جواب میں نفی میں دیتا یا جواب ہی نہ دیتا تو آپ کا عذر قابل سماعت ہوتا لیکن جب آپ نے یہ تکلیف نہیں اُٹھائی تو میں آپ کے عذر کو کس طرح قبول کروں۔کیا یہ بات درست نہیں کہ آپ نے میرے مریدین کو بڑی بڑی لمبی چٹھیاں لکھی تھیں ؟ پھر کیا یہ درست نہیں کہ آپ نے ان سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تھی؟ پھر کیا آپ اس وقت سے کچھ وقت بچا کر اور ان کاغذوں لفافوں سے ایک کاغذ اور لفافہ بچا کر ایک خط میری طرف مذکورہ بالا مضمون کا نہیں لکھ سکتے تھے ؟ جب کہ اس بات سے آپ کو کوئی امر مانع نہ تھا۔تو آپ کا جماعت کے دوسرے افراد کو دعوت دینا اور ان کے ملنے کی خواہش ظاہر کرنا ، ان کی طرف خطوط لکھنا لیکن مجھ سے فیصلہ کرنے یا گفتگو کرنے کی کوئی تحریک نہ کرنا اور خط لکھ کر دریافت نہ کرنا صاف ظاہر نہیں کرتا کہ آپ کا اصل منشاء لوگوں کو اپنا ہم خیال بنانا اور جماعت میں پھوٹ ڈالنا تھا نہ کہ صلح کرنا۔صلح مجھ سے ہو سکتی تھی اور کس کا حق تھا کہ میری اجازت کے بغیر صلح کرلے۔یہ صلح کوئی مقامی معاملہ نہ تھا ، یہ فیصلہ کسی خاص شہر سے تعلق نہ رکھتا تھا بلکہ سب جماعت اور سب احمدیوں پر اس کا اثر پڑتا تھا پس یہ فیصلہ مبائعین میں سے بغیر میری اجازت کے اور کون کر سکتا تھا۔اگر آپ کا منشاء صلح تھا تو مجھ سے براہ راست کیوں آپ نے گفتگو نہ کی؟ اب رہا یہ سوال کہ ایسا اعلان بعض غیر ذمہ دار لوگوں نے کیوں کیا کہ لوگ آپ