خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 161
خلافة على منهاج النبوة جلد اول لیکن برخلاف آپ کے بیان کے کہ پیار و تم احمدیت کو تو کیا پھیلاؤ گے سنو ! اور ہوش سے سنو !! اگر وہ خبر درست ہے جو مجھے گذشتہ ہفتہ معتبر ذرائع سے معلوم ہوئی ہے تو تمہاری رفتار احمدیت جو نہایت سرعت سے خراسان اور حدود د افغانستان میں جاری تھی ختم ہوگئی اور بہت سے احمدی احمدیت سے الگ ہو گئے اور اس کے ذمہ دار دو ہی مسئلے ہیں جیسے مجھے اطلاع ملی ایک تکفیر غیر احمد یاں اور دوسری مرزا صاحب کی نبوت مستقلہ۔کوئی شخص نفاق کے سوائے اس عقیدہ پر افغانستان میں نہیں رہ سکتا۔احمدیت نہایت زور سے بڑھ رہی ہے اور پچھلے چند ماہ میں سینکڑوں نئے آدمی سلسلہ میں داخل ہوئے ہیں جن میں انگریزی علوم کے لحاظ سے ایم۔اے اور بی۔اے بھی شامل ہیں۔عربی علوم کے لحاظ سے تحصیل یافتہ مولوی ہیں، سرکاری عہدوں کے لحاظ سے ای۔اے۔سی اور اسٹنٹ انسپکٹران سکول ہیں۔رئیسوں کے لحاظ سے بڑے بڑے جا گیر دار ہیں غرض کہ غریب بھی اور امیر بھی جو اپنے اندر نہایت اخلاص رکھتے ہیں اس سلسلہ میں داخل ہوئے ہیں اور مبائعین میں شامل ہوئے ہیں۔بعض کو لوگ تکلیفیں بھی دیتے ہیں لیکن صبر سے کام لے رہے ہیں اور اپنے عقائد کو بدلنے کی انہیں کوئی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔پھر میں کیونکر مان لوں کہ ہمارے عقائد سلسلہ کے راستہ میں روک ہیں اور کیونکر تسلیم کر لوں کہ اب سلسلہ کی ترقی رُک گئی ہے۔اگر آپ کا خیال درست ہوتا تو واقعات اس کی تصدیق کرتے اور بجائے ہماری ترقی کے تنزّل ہوتا اور بجائے ہمارے بڑھنے کے آپ بڑھتے لیکن باوجود اس کے خلاف خدائے تعالیٰ کا معاملہ دیکھنے کے آپ کو ہم راستی پر کیونکر مان سکتے ہیں؟ خواجہ صاحب نے ایک یہ شکوہ بھی کیا ہے کہ وہ جب ہندوستان میں آئے تو ان کا ارادہ فوراً قادیان جانے کا تھا لیکن بعض غیر ذمہ دار لوگوں کی تحریروں کی وجہ سے جن میں اُنہوں نے غیر مبائعین سے ملنے جلنے اور بولنے کی ممانعت کی ہے میں رُک گیا۔پھر وہ شکایت کرتے ہیں کہ اگر احمدیوں سے یہ سلوک ہے تو غیر احمدیوں اور پھر عیسائیوں سے کیا سلوک کرنا