خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 160 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 160

خلافة على منهاج النبوة 17۔جلد اول جواباً ایک عریضہ لکھا تھا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ میں شیعہ ہوں اور اہل تشیع ائمہ اثنا عشر کے سوا کسی کو ولی یا امام نہیں تسلیم کرتے اس لئے میں آپ کی کس طرح بیعت کر سکتا ہوں ؟ اس پر حضرت نے ایک طولانی خط لکھا جس کا ما حصل یہ تھا کہ اگر برکات روحانیہ محض ائمہ اثنا عشر پر ختم ہو گئے تو ہم جو روز دعا مانگتے ہیں کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یہ سب بیکار ہے۔اور اب سے تو ہو چکی دودھ باقی ہے۔کیا ہم دود کے لئے اب مشقت ریاضات کریں؟ حضرت نے یہ بھی لکھا کہ منجملہ ان لوگوں کے جو حضرت امام حسین کے ہم پلہ ہیں میں بھی ہوں بلکہ ان سے بڑھ کر۔اس خط سے ایک گونہ میرا رحجان ہو گیا مگر میں نے پھر حضرت کو لکھا کہ کیا ایک شیعہ آپ کی بیعت کر سکتا ہے؟ تو آپ نے تحریر فرمایا کہ ہاں۔چنانچہ پھر بمقام لدھیانہ ستمبر یا اکتو بر ۱۸۹۰ء میں میں حضرت سے ملا اور اس ملاقات کے بعد میں نے حضرت صاحب کو بیعت کا خط لکھ دیا مگر ساتھ ہی لکھا کہ اس کا اظہار سر دست نہ ہو۔مگر ازالہ اوہام کی تصنیف کے وقت حضرت نے لکھا کہ مجھ کو اس طرح آپ کا پوشیدہ رکھنا نا مناسب معلوم ہوتا ہے۔میں آپ کے حالات ازالہ اوہام میں درج کرنا چاہتا ہوں۔آپ اپنے حالات لکھ کر بھیج دیں چنانچہ میں نے حالات لکھ دیے اور باوجود بیعت اور تعلق حضرت اقدس میں ۱۸۹۳ء تک شیعہ ہی کہلا تا رہا اور نماز وغیرہ سب ان کے ساتھ ہی ادا کرتا تھا بلکہ یہاں قادیان اس اثناء میں آیا تو نما ز علیحدہ ہی پڑھتا رہا تھا۔۱۸۹۳ء سے میں نے شیعیت کو ترک کیا ہے۔محمد علی خان۔خواجہ صاحب نفاق تو اس کو کہتے ہیں کہ ظاہر اور بات کی جائے اور دل میں اور ہولیکن جو شخص آگے آکر خود کہہ دے کہ میرا یہ عقیدہ ہے وہ نفاق کا مرتکب کیونکر کہلا سکتا ہے اور جس کی بیعت کرتا ہے اس سے کبھی اس عقیدہ کو پوشیدہ نہ رکھے اور وہ اسے اجازت دے دے تو یہ نفاق کیونکر ہوا۔خواجہ صاحب ! نہ معلوم آپ نے یہ بات کہاں سے معلوم کی کہ احمدیت کی روک کا اصل باعث تکفیر ہے اگر یہ بات تھی تو چاہئے تھا کہ جب سے آپ الگ ہوئے ہیں آپ کا حصہ جماعت سرعت سے بڑھنے لگتا لیکن بجائے اس کے آپ نے تو کوئی معتد بہ ترقی نہیں کی