خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 159
خلافة على منهاج النبوة ۱۵۹ جلد اول جس طرح اور لوگ اس روز بیٹھے رہے میں بھی بیٹھی رہتی۔اس بات کی تمنا مجھے اس سے بھی کہیں بڑھ کر ہے کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دس بچے جنتی۔جن میں سے ہر ایک بچہ عبد الرحمن بن حارث بن ہشام جیسا ہوتا۔( ج ) نیز طلحه و زبیر از عشرة مبشرة بالجنة اندو بشارت آنحضرت صلعم حق است۔با آنکه ایشان رجوع کردند از خروج و توبه نمودند ترجمہ : اور طلحہ اور زبیر عشرہ مبشرہ میں سے بھی ہیں جن کی بابت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی بشارت دی ہوئی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت کا سچا ہونا یقینی ہے پھر یہی نہیں بلکہ اُنہوں نے خروج سے رجوع اور توبہ کر لی۔خواجہ صاحب ! آپ نے حضرت صاحب کا ایک الہام لکھا ہے۔مسلمانوں کے دوفریق ہیں۔خدا ایک کے ساتھ ہوا یہ سب پھوٹ کا نتیجہ۔یہ کب ہوا تھا اور کہاں لکھا ہے۔جب الہاموں کی نقل میں احتیاط سے کام نہیں لیتے تو دوسری باتوں میں آپ نے کیا احتیاط کرنی ہے۔کلامِ الہی کے نقل کرنے میں تو انسان کو حد درجہ کا محتاط ہونا چاہیے اور اپنی طرف سے الفاظ بدل دینے سے ڈرنا چاہیے۔اس ٹریکٹ میں خواجہ صاحب نے ایک اور بات پر بھی زور دیا ہے کہ یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ مرشد سے عقیدہ میں خلاف ہو۔اور پھر اس کو چھپائیں یہ تو نفاق ہے۔بیشک ایک مرشد سے عقیدہ میں اختلاف رکھنا اور اسے چھپانا نفاق ہے لیکن ایک شخص کی بیعت کرنے سے پہلے اُس پر ظاہر کر دینا کہ میرے یہ اعتقادات ہیں اتحاد عمل کے لئے آپ مجھے اپنی جماعت میں داخل کر سکتے ہیں یا نہیں ؟ اور اس شخص کا اسے بیعت میں داخل کرنا نفاق نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی نواب صاحب کو لکھا تھا کہ آپ شیعہ رہ کر بھی بیعت کر سکتے ہیں۔چنانچہ نواب صاحب کی گواہی ذیل میں درج ہے۔میں نے یہ تحریک اپنے استاد مولوی عبد اللہ صاحب فخری حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں غالباً آخر ۱۸۸۹ ء یا ابتدائے ۱۸۹۰ء میں خط دعا کے لئے لکھا تھا۔جس پر حضرت نے جواب میں لکھا کہ دعا بلا تعلق نہیں ہوسکتی آپ بیعت کر لیں۔اس پر میں نے