خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 155

خلافة على منهاج النبوة ۱۵۵ جلد اول انہی متفرق باتوں میں سے جن کا مختصر جواب میں اس جگہ دینا ضروری سمجھتا ہوں ایک یہ بھی ہے کہ خواجہ صاحب لکھتے ہیں کہ اگر محمد علی اور اس کے دوست ایسے ہی ہیں جیسے تم خیال کرتے ہو تو پھر مرزا کی نہ تعلیم درست نہ تربیت درست اور پھر الزام لگاتے ہیں کہ یہ خیال تو شیعوں کے تھے کہ سب صحابہ سوائے چند اہل بیت اور صحابہ کے منافق تھے۔مگر میں پوچھتا ہوں کہ یہ خیال تو آپ کا ہے۔آپ ستانوے فیصدی احمد یوں کو تو غلطی پر خیال کرتے ہیں ، منصو بہ باز خیال کرتے ہیں ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کاموں کو تباہ کرنے والا بیان کرتے ہیں اور ایک بڑے حصہ کو اپنے اسی مضمون میں کافر ظاہر کرتے ہیں کیونکہ وہ تو مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں پھر تعجب ہے کہ اس صورت میں آپ شیعوں کے متبع ہوئے یا ہم۔شیعہ بھی تو اکثر حصہ کو گندہ کہتے ہیں صرف چند کو پاک خیال کرتے ہیں اور انہی کو ذمہ وار اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیارا سمجھتے ہیں آپ کا بھی ایسا خیال ہے تو یہ اعتراض آپ پر پڑا یا ہم پر ؟ اور اگر مولوی محمد علی صاحب اور ان کے چند دوستوں کے بُرا ہو جانے سے مرزا صاحب کی تعلیم پر بھی پانی پھر جاتا ہے تو کیوں احمدی جماعت کے کثیر حصہ کے کا فر ہو جانے سے جیسا کہ آپ نے اپنے ٹریکٹ صفحہ ۴۲ پر صریح الفاظ میں لکھا ہے مرزا صاحب نا کام نہیں رہے۔اگر کہو کہ ہم نے تو حدیث اور مسیح موعود علیہ السلام کے فتویٰ کے مطابق کہا ہے کہ چونکہ آپ لوگ غیر احمدی مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں اس لئے کا فر ہو گئے ، اپنی طرف سے تو بات نہیں کہی تو میں بھی کہتا ہوں کہ ہم بھی جو فتوی لگاتے ہیں قرآن کریم اور احادیث کے مطابق لگاتے ہیں اور ہمارا فتویٰ بھی آیت استخلاف کے ماتحت ہی ہے۔پس اگر آپ کا فتویٰ درست ہے تو یہ بھی درست ہے اور اگر آپ کا فتویٰ درست ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نَعُوذُ بِاللهِ ناکام گئے مگر یہ غلط ہے۔ایسا نہیں ہوا۔مسیح موعود علیہ السلام کا میاب گئے اور ہر طرح کامیاب گئے۔جماعت کا اکثر حصہ اُس راہ پر چل رہا ہے جس پر آپ نے چلایا تھا۔ہاں کچھ لوگ الگ ہو گئے۔بے شک آپ لکھتے ہیں کہ کیا وہ ا کا برخراب ہو سکتے ہیں جو سلسلہ کے خادم تھے ؟ تو میں کہتا ہوں کہ مسیح موعود علیہ السلام کی وہ بات کیوں کر پوری ہوتی جو آ نے الہام کی بناء پر لکھی تھی کہ کئی چھوٹے ہیں جو بڑے کئے جائیں گے اور کئی بڑے ہیں جو