خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 154
خلافة على منهاج النبوة ۱۵۴ جلد اول ہوا ہو۔میں احمدی ہونے کے لحاظ سے جس طرح ایک امیر سے امیر مبائع کو سلسلہ کے کاموں کا ذمہ دار خیال کرتا ہوں۔اسی طرح اس شخص کو جسے دو تین وقت کا فاقہ ہو اور جس کے تن پر پھٹے ہوئے کپڑے ہوں۔آپ اپنی جماعت کے لوگوں میں خواہ کس قدر فریق ہی بنا ئیں میں اپنے مبائعین میں ہرگز کوئی فرق نہیں پاتا۔خلیفہ ایک وجود ہے جس کو اللہ تعالیٰ انتظام کے لئے کھڑا کرتا ہے۔اس امر کو چھوڑ کر خود خلیفہ جماعت میں سے ایک معمولی فرد ہے اور اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ اصولوں کا ایسا ہی پابند ہے جیسے اور ممبر۔اور جس طرح اور لوگ سلسلہ احمدیہ کے افراد ہیں وہ ان افراد میں سے ایک فرد ہے ان کا بھائی ہے۔انہی کا ہے۔اسے اس انتظام سے علیحدہ ہو کر جو جماعت کے قیام کیلئے اس کے سپرد کیا گیا ہے اور کوئی فضیلت نہیں۔اگر وہ غریب سے غریب آدمی کے حق کو دباتا ہے تو وہ خدا کے حضور جوابدہ ہے۔پس اس جماعت کا ہر ایک فرد ذمہ دار ہے اور اسلام کسی کو ذلیل نہیں کرتا۔حضرت عمر کے وقت ایک حبشی غلام نے ایک شہر سے صلح کر لی تھی با وجود افسروں کی ناراضگی کے حضرت عمرؓ نے اُس کو قائم رکھا اور باوجود اس کے کہ اس میں بعض جگہ انتظامی دقتیں پیدا ہو جانے کا خطرہ ہو سکتا تھا۔مگر میں کہتا ہوں اس واقعہ سے خوب ظاہر ہو جاتا ہے کہ اسلام خلیفہ کو اس مقام پر کھڑا کرتا ہے جہاں اس کی نظر میں سب مسلمان برا بر ہوں۔آپ ایک طرف تو یہ اصل مقرر کرتے ہیں کہ یہ دیکھنا چاہیے کہ بات کیسی ہے اور یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ کس نے کہی ہے اور کن خیالات سے کہی ہے لیکن آپ نے اس پر عمل تو نہ کیا۔جماعت کے ایک حصہ کو جو آپ کی اور میری طرح معزز ہے بے وجہ غیر ذمہ دار قرار دے دیا۔بے شک اگر بعض لوگوں کی بعض باتیں آپ کو پسند نہ آئی تھیں تو آپ کہہ سکتے تھے کہ فلاں فلاں باتیں ان کی غلط ہیں ان کو بند کیا جاوے یا ان کی اصلاح کی جائے۔بجائے اس کے آپ ایک گروہ غیر ذمہ داروں کا قرار دے کر اس کی باتوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کی غیر ذمہ داری کی وجہ سے مجھے مشورہ دیتے ہیں کہ اسے بند کر دوں۔مگر چونکہ میں سب کو ذمہ دار خیال کرتا ہوں اس لئے اس مشورہ پر عمل کرنے سے معذور ہوں۔ہاں اگر کوئی بات نا معقول ہو تو اس کے روک دینے کے لئے تیار ہوں۔مگر خدا کی دی ہوئی طاقتوں کو زائل کرنا میرا کام نہیں۔