خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 153
خلافة على منهاج النبوة ۱۵۳ جلد اول مطابق خاموشی اختیار کریں اور دیکھیں کہ خدا تعالیٰ انجام کا ر کیا دکھلاتا ہے۔اگر مصلح موعود کے ہونے کے متعلق میرے الہام کی آپ قدر کرنے کے لئے تیار ہیں تو کیوں اس امر میں آسمانی شہادت کی قدر نہیں کرتے۔آپ خوب یا درکھیں کہ یہاں خدمات کا سوال نہیں یہاں خدائی دین کا سوال ہے۔اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ خدمات کے متعلق میرا کوئی دعویٰ نہیں۔اللہ تعالیٰ اگر مجھ سے کوئی خدمت لے لے تو یہ اُس کا احسان ہوگا ورنہ میں کوئی چیز نہیں۔میں اس قدر جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میرے ذریعہ اس جماعت کو پھر بڑھانا چاہتا ہے۔میرا ایک بہت بڑا کام ہو گیا ہے۔جماعت میں احساس پیدا ہو گیا ہے باقی حصہ بھی جلد پورا ہو جائے گا اور احمد یہ جماعت بے نظیر سرعت سے ترقی کرنی شروع کرے گی۔میں نے تو اس قدر احتیاط سے کام لیا ہے کہ آپ کے طریق تبلیغ کی بھی اُس وقت تک مخالفت نہیں کی جب تک اللہ تعالیٰ نے مجھے نہیں بتایا کہ یہ غلط ہے۔پس میں آسمان کو زمین کے لئے نہیں چھوڑ سکتا اور اللہ تعالیٰ سے توفیق چاہتا ہوں کہ وہ مجھے ہمیشہ اپنی رضا پر چلنے کی توفیق دے اور ہر قسم کی لغزشوں اور ٹھوکروں سے بچائے۔آمین غیر ذمہ دار لوگ خواجہ صاحب اپنے سارے مضمون میں اس بات پر بہت زور دیتے ہیں کہ یہ سب فساد غیر ذمہ دار لوگوں کا ہے اور اس امر کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ مجھے کچھ لوگ ورغلاتے رہتے ہیں اور یہ لوگ امن نہیں ہونے دیتے۔میں خواجہ صاحب کو اس معاملہ میں خاص طور پر نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس لفظ کو میری جماعت کے لوگوں کی نسبت استعمال نہ کیا کریں۔کیونکہ میں اس امر کا قائل نہیں کہ کچھ خاص لوگ سلسلہ کے ٹھیکیدار ہیں۔خوب یا درکھیں کہ ہر ایک وہ شخص جو مسیح موعود کے ہاتھ پر بیعت کر کے سلسلہ میں داخل ہوتا ہے وہ ذمہ دار ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِه ، پھر آپ کیوں کر فرماتے ہیں کہ غیر ذمہ دار لوگ کیوں بولتے ہیں۔انہی کا یہ سب فساد ڈالا ہوا ہے۔آپ نے ذمہ داری شاید یہ سمجھ لی ہے کہ ایک شخص مالدار ہو یا ڈگری یافتہ ہو۔میرے خیال میں ذمہ داری کچھ اور ہی چیز ہے اور ہر ایک مسلمان خدا کے نزدیک ذمہ دار ہے خواہ وہ گدڑی پوش ہو یا تخت شاہی پر بیٹھا