خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 151
خلافة على منهاج النبوة ۱۵۱ جلد اول پڑھتا تھا۔سوخدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ میں اپنے اُس محسن کا وفادار رہا۔ہاں چونکہ انسان کمزور ہے اگر میری کسی کمزوری کی وجہ سے وہ کسی وقت مجھ سے ناراض ہوا ہو تو کیا تعجب ہے۔بخاری میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کی جنگ کا ذکر ہے جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرؓ کو سخت ڈانٹا۔حتی کہ حضرت ابو بکر کو حضور سے ان الفاظ میں سفارش کرنی پڑی کہ نہیں حضور قصور میرا ہی تھا سے تو کیا حضرت عمر پر اس واقعہ سے کوئی الزام آ جاتا ہے زیادہ سے زیادہ یہ کہو گے کہ حضرت عمر سے میری ایک اور مشابہت ہو گئی۔استاد کا شاگرد کو ڈانٹا بُری بات نہیں شاگرد کا استاد کو گالی دینا برا ہے۔کیونکہ ڈانٹنا استاد کا کام تھا اور گالی دینا شاگرد کا کام نہیں ہے۔پس وہ لوگ ایسی کسی تحریر پر کیا خوش ہو سکتے ہیں جو آج بڑے زور سے اعلان کر رہے ہیں کہ ہم نے کبھی خلیفہ اول کی مخالفت نہیں کی حالانکہ ان کی دستخطی تحریر میں موجود ہیں جن میں اُنہوں نے آپ کو اسلام کا دشمن اور حکومت پسند اور چڑ چڑا وغیرہ الفاظ سے یاد کیا ہے۔پھر جس تحریر پر ناز کیا جاتا ہے اگر وہ درست بھی مان لی جائے تو اس کے متعلق میرے پاس بھی سید ڈاکٹر صاحب کا خط موجود ہے جس سے اصل معاملہ پر روشنی پڑ جاتی ہے اور جس تحریر کی طرف خواجہ صاحب اشارہ کرتے ہیں اس کے بعد کی وہ تحریر ہے جس میں حضرت خلیفہ اوّل نے میری نسبت لکھا ہے کہ میں اسے مصلح موعود سمجھتا ہوں اور پھر اس کے بعد کا واقعہ ہے کہ آپ نے ایک بھری مجلس میں فرمایا کہ مسند احمد بن حنبل کی تصحیح کا کام ہم سے تو ہو نہ سکا میاں صاحب کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ چاہے تو ہو سکے گا۔اور یہ جنوری ۱۹۱۴ ء کی بات ہے۔آخری بیماری سے ایک دو دن پہلے کی۔پس آپ ان زبر دست حملوں کی اشاعت سے ہرگز نہ چوکیں؟ کیوں اپنے ہاتھ سے موقع جانے دیتے ہیں شاید اسی سے آپ کو کوئی فائدہ پہنچ جائے مگر خوب یا درکھیں کہ میرا معاملہ کسی انسان کی تعریف کے ساتھ تعلق نہیں رکھتا اگر حضرت خلیفہ اول کی وہ تحریریں میری تائید میں موجود نہ ہوتیں جو آپ کے پاس جس قدر خطوط ہیں ان کی نفی کر دیتی ہیں تو بھی مجھے خدا نے اس کام پر کھڑا کیا ہے نہ کہ کسی انسان نے۔میں کسی انسان کی تحریروں کا محتاج نہیں۔خلافت خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔جو انسانوں کے