خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 150

خلافة على منهاج النبوة ۱۵۰ جلد اول ہمارے جھگڑے کا فیصلہ کریں اَحْكُمُ الْحَاكِمِینَ خود ہمارے مقدمہ کا فیصلہ کر دے اور گورنمنٹ کے دخل دینے کے بعد کسی ماتحت عدالت کا کیا حق ہے کہ کچھ کر سکے۔پس اگر خدا تعالیٰ ہی کوئی فیصلہ صادر فرمائے جس سے سب فساد دور ہو کر امن ہو جائے تو دنیا کی حکومتوں نے کیا دخل دینا ہے۔مقدمات سے ان کو ڈرائیں جن کی نظر دنیا کے اسباب پر ہے کوئی دنیا کی حکومت ہمیں اس مقام سے نہیں ہٹا سکتی جس پر خدا تعالیٰ نے ہمیں کھڑا کیا ہے کیونکہ دنیاوی حکومتوں کا اثر جسم پر ہے دل پر نہیں دل صرف خدا تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں۔اس ٹریکٹ میں کچھ متفرق باتیں بھی ہیں گوان کا جواب ایسا ضروری نہیں مگر کچھ جواب دے دیتا ہوں۔خواجہ صاحب اس ٹریکٹ میں اس امر سے بھی ڈراتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اول کے کوئی خطوط ان کے پاس ایسے بھی ہیں جن کے اظہار سے ہمیں سخت دقت پیش آئے گی۔ان خطوں کی اطلاع مختلف ذرائع سے مجھے پہنچی ہے اور ہر ایک شخص نے یہی بیان کیا ہے کہ خواجہ صاحب فرماتے تھے کہ میں یہ خط صرف آپ کو ہی دکھاتا ہوں اور کسی کو نہیں دکھایا مگر جب دیکھا تو راوی چار پانچ نکلے جس پر مجھے حیرت ہوئی کہ صرف ایک کو سُنا کر اس قدر لوگوں کو کیونکر علم ہو گیا۔مگر کوئی تعجب نہیں کہ خواجہ صاحب پہلے ایک سے ذکر کرتے ہوں اور پھر یہ بھول جاتے ہوں کہ میں پیغام بھیج چکا ہوں پھر کوئی اور شخص نظر آ جاتا ہو اور آپ مناسب خیال کرتے ہوں کہ اس کے ہاتھ بھی پیغام بھیج دیں بہر حال ہم خواجہ صاحب کی اس مہربانی کے ممنون ہیں کہ اُنہوں نے ان خطوط کے مضمون سے بغیر اسے شہرت دینے کے ہمیں مطلع کر دیا۔لیکن میں کہتا ہوں خواجہ صاحب بیشک ان خطوط کو شائع کر دیں مجھے ان کی عبارت پوری طرح یاد نہیں۔نہیں تو میں ابھی لکھ دیتا۔مجھے اس کی پرواہ نہیں کہ کوئی میری نسبت کیا لکھتا ہے مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں نے اپنے پیر کے خلاف کبھی کچھ نہیں کہا اور ہمیشہ اس کا فرمانبردار رہا ہوں اور میں نے اس کے منہ سے بارہا یہ الفاظ سنے ہیں کہ مجھے آپ سے محبت نہیں بلکہ عشق ہے۔اس نے مجھے اُس وقت جب کہ میں کسی قدر بیمار تھا اور بیماری بالکل خفیف تھی۔ایسی حالت میں کہ خود اسے کھانسی کے ساتھ خون آتا تھا۔اس طرح پڑھایا ہے کہ وہ مجھے یہ کہہ کر کتاب نہ پڑھنے دیتا تھا کہ آپ بیمار ہیں اور خود اس بیماری میں