خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 145
خلافة على منهاج النبوة ۱۴۵ جلد اول خواجہ صاحب ! بتائیں کہ اگر آپ یا آپ کے دوست نہ تھے تو اور کون لوگ تھے جنہوں نے کہا تھا کہ ہمارا ہی بنایا ہوا خلیفہ ہے ہم اسے معزول کر دیں گے اور وہ کون لوگ تھے جو کہتے تھے کہ یہ زمانہ ہی پارلیمنٹوں کا ہے ایک حاکم کا نہیں۔دیکھو ایران میں بھی دستوریت ہوگئی ہے اس لئے انجمن ہی اصل حاکم ہونی چاہیے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر جو پہلا جلسہ ہوا اس میں جو تقریر آپ نے فرمائی اس کے بعض فقرات یہ ہیں۔اب ایک سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ تم ملہم نہیں تمہاری کیا ضرورت ہے۔کیا حضرت صاحب ہمارے لئے کم ہدایت چھوڑ گئے ہیں۔ان کی اسی (۸۰) کے قریب کتابیں موجود ہیں وہ ہمارے لئے کافی ہیں یہ سوال بد بخت لوگوں کا ہے جو خدا تعالیٰ کی سنت کا علم نہیں رکھتے۔اس قسم کے سوال سے تمام انبیاء کا سلسلہ باطل ہو جاتا ہے چنانچہ کہہ سکتے ہیں کہ علم ادم الاسماء كلیا جب خدا نے سب کچھ آدم کو بتا دیا تو اب نوح اور ابراہیم کیا لائے جو ماننا ضروری ہے؟ لیا تو ان کے حق میں آچکا ہے۔پھر آدم کے لئے سب ملائکہ نے سجدہ کیا پس اب ان دوسرے انبیاء کی کیا ضرورت ہے۔پھر دم نقد واقعہ موجود ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جامع جمیع کمالات جن کی نسبت میرا اعتقاد ہے خاتم الرسل، خاتم الحكام ، خاتم النبین ، خاتم الاولیاء، خاتم الانسان ہیں۔اب ان کے بعد اگر کوئی ابو بکر کو نہیں مانتا تو فرمایا وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذلِكَ فَأوليك هُمُ الفسقُونَ " یعنی جو انکار کرے گا وہ خدا کی اطاعت سے باہر نکلنے والا ہے“۔غرض یہ سوال پہلے آدم پر پڑتا ہے۔پھر جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر۔پھر ابوبکر پر ، پھر علی پر ، پھر مہدی پر۔جب سارے علوم رسالت مآب سنا گئے تو مہدی کی کیا ضرورت ہے؟ حقیقی بات یہی ہے کہ ضرورت ہے اجتماع کی۔اور شیرازۂ اجتماع قائم رہ سکتا ہے ایک امام کے ذریعہ۔اور پھر یہ اجتماع کسی ایک خاص وقت میں کافی نہیں مثلاً صبح کو امام کے پیچھے اکٹھے ہوئے تو کیا کہہ سکتے ہیں کہ اب ظہر کو کیا ضرورت ہے؟ عصر کو کیا ؟ پھر شام کو کیا ؟ پھر عشاء کو کیا؟ پھر جمعہ کو اکٹھے ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ پھر عید کے دن کیا ضرورت