خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 144
خلافة على منهاج النبوة ۱۴۴ جلد اول بغاوت کے متعلق حضرت ذکر فرمایا کرتے تھے اور سخت الفاظ میں اپنے رنج کا اظہار فرمایا کرتے تھے بلکہ یہی نہیں میں آپ کے دوستوں کے ہاتھ کے لکھے ہوئے خطوط پیش کر سکتا ہوں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت خلیفہ اول اس معاملہ میں آپ پر سخت ناراض تھے۔وفات سے کچھ دن پہلے جلسہ کی خوشی میں جو اعلان کیا اس میں بھی اس واقعہ کا ذکر ان الفاظ میں موجود ہے۔” جب ایک دفعہ خلافت کے خلاف شور ہوا تھا تو مجھے اللہ تعالیٰ نے رویا میں دکھایا تھا۔اور آپ جانتے ہیں کہ یہ رویا مسجد کی چھت پر اسی جلسہ میں جس میں آپ فرماتے ہیں کہ مجھ سے بیعت ارشاد لی ، سنائی تھی اور وہ کون تھے جنہوں نے خلافت کے خلاف شور مچایا تھا۔خلافت کے متعلق حضرت خلیفۃ المسیح کی بہت سی تحریریں موجود ہیں اور وہ شائع ہو چکی ہیں۔جب آپ ملتان ایک مقدمہ میں گواہی دینے کے لئے تشریف لے گئے تھے تو آپ نے ان الفاظ میں اپنی شہادت کو شروع کیا تھا۔میں حضرت مرزا صاحب کا خلیفہ اول ہوں۔جماعت احمدیہ کا لیڈر ہوں“۔پھر آپ اپنی ایک تقریر میں فرماتے ہیں :۔میں خلیفہ اسیح ہوں اور خدا نے مجھے بنایا ہے خدا تعالیٰ نے مجھے یہ رِدا پہنا دی ہے۔۔۔اس نے آپ۔نہ تم میں سے کسی نے مجھے خلافت کا گر تہ پہنا دیا۔۔۔معزول کرنا اب تمہارے اختیار میں نہیں۔ایک وہ خلیفہ ہوتا ہے جو لِيَسْتَخْلِفَتُهُمْ فِي الْأَرْضِ ے میں موعود۔ہے تم معزول کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔میں تم سے کسی کا بھی شکر گزار نہیں ہوں۔جھوٹا ہے وہ شخص جو کہتا ہے کہ ہم نے خلیفہ بنایا۔مجھے یہ لفظ بھی دکھ دیتا ہے جو کسی نے کہا کہ پارلیمنوں کا زمانہ ہے۔میں کہتا ہوں وہ بھی تو بہ کر لے جو اس سلسلہ کو پارلیمنٹ اور دستوری سمجھتا ہے۔مجھے وہ لفظ خوب یاد ہیں کہ ایران میں پارلیمنٹ ہوگئی اور دستوری کا زمانہ ہے اُنہوں نے اس قسم کے الفاظ بول کر جھوٹ بولا بے ادبی کی۔۔۔میں پھر کہتا ہوں وہ اب بھی تو بہ کر لیں اور حضرت مسیح موعود اور مہدی بھی آچکے جس کا خدا نے اپنے فضل سے مجھ کو خلیفہ بنایا۔