خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 130 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 130

خلافة على منهاج النبوة ۱۳۰ جلد اول میں پہلے کر چکا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ کی لکھی ہوئی موجود ہے اور وہ دوسری رؤیا بھی دیکھ چکا تھا جس میں میر محمد الحق صاحب کے سوالات سے منافقوں کے سر جلنے کا پتہ دیا گیا تھا لیکن پھر بھی طبیعت پر ایک بوجھ تھا اور میں چاہتا تھا کہ زیادہ وضاحت سے مجھے اس مسئلہ کی نسبت کچھ بتایا جائے اور میں نے اپنے رب کے حضور میں بار بار عرض کی کہ الہی ! مجھے حق کا پتہ دیا جائے اور صداقت مجھ پر کھول دی جائے اور جو بات سچ ہو وہ مجھے بتا دی جائے کیونکہ مجھے کسی پارٹی سے تعلق نہیں بلکہ صرف حضور کی رضا حاصل کرنے کا شوق ہے۔جس قدردن جلسہ میں باقی تھے ان میں میں برابر یہ دعا کرتا رہا لیکن مجھے کچھ نہ بتایا گیا حتی کہ وہ رات آگئی جس دن صبح کو وہ جلسہ تھا جس میں یہ سوالات پیش ہونے تھے اور اُس رات میرا کرب بڑھ گیا اور میرا دل دھڑ کنے لگا اور میں گھبرا گیا کہ اب میں کیا کروں۔اُس رات میں بہت ہی گڑ گڑایا اور عرض کیا کہ الہی ! صبح کو یہ معاملہ پیش ہوگا حضور مجھے بتائیں کہ میں کس طرف ہوں۔اس وقت تک تو میں خلافت کو حق سمجھتا ہوں لیکن مجھے حضور کی رضا مطلوب ہے کسی اپنے اعتقاد پر اصرار نہیں میں حضور سے ہی اس مسئلہ کا حل چاہتا ہوں تا میرے دل کو تسلی ہو۔پس صبح کے وقت میری زبان پر یہ الفاظ جو قرآن کریم کی ایک آیت ہے جاری کئے گئے قُل مَا يَحْبُوا بِكُم ربي لولا دُعا دعم اسے کہہ دے کہ میرا رب تمہاری پر واہ ہی کیا کرتا ہے۔اس کے بعد مجھے تسلی ہوگئی اور میں نے خیال کیا کہ میں حق پر ہوں کیونکہ لفظ محمل نے بتا دیا ہے کہ میرا خیال درست ہے تبھی تو مجھے حکم ہوا کہ میں لوگوں کو حکم الہی سنا دوں اور اگر میرا عقیدہ غلط ہوتا تو یہ الفاظ ہوتے کہ قُل مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَتي لَولا دُعَاؤُكُمْ میں نے یہ الفاظ کئی لوگوں کو سنا دیئے تھے مگر اب یا دنہیں کہ کس کس کو سنائے تھے۔مسئلہ خلافت پر پانچویں آسمانی شہادت میں نے حضرت علیہ اسی کی وفات سے تین سال پہلے ایک خواب دیکھا جس کی تعبیر یہ تھی کہ آپ کی وصیت سے نواب صاحب کا بھی کچھ تعلق۔چنانچہ تین سال بعد اللہ تعالیٰ نے اس رویا کو پورا کر کے دکھا دیا کہ وہ کیسا زبردست ہے۔ہے۔