خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 105
خلافة على منهاج النبوة ۱۰۵ جلد اول اس نے تیسری بار اس سے کہا کیا تو مجھے عزیز رکھتا ہے؟ اس سبب سے پطرس نے دلگیر ہو کر اس سے کہا اے خداوند ! تو تو سب کچھ جانتا ہے تجھے معلوم ہی ہے کہ میں تجھے عزیز رکھتا ہوں۔یسوع نے اس سے کہا کہ تو میری بھیڑیں پچر ۵۰۱ تو حضرت مسیح نے اپنے بعد پطرس کو خلیفہ مقرر کیا۔ایک جگہ لوقا باب ۹ میں ا حضرت مسیح کے متعلق لکھا ہے۔پھر اس نے ان بارہ (حواریوں) کو بلا کر انہیں سب بد روحوں پر اور بیماریوں کو دور کرنے کے لئے قدرت اور اختیار بخشا اور انہیں خدا کی بادشاہت کی وو منادی کرنے اور بیماروں کو اچھا کرنے کے لئے بھیجا۔لے پس وہ روانہ ہو کر گاؤں گاؤں خوشخبری سناتے اور ہر جگہ شفا دیتے پھرتے“۔کے ان آیات سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح نے اپنے حواریوں کے سپرد تبلیغ کا کام کیا ہے لیکن اُنہوں نے اپنی جماعت کو کسی جماعت کے سپر دنہیں کیا بلکہ صرف پطرس کو ہی کہا ہے کہ تو میرے برے چرا تو میری بھیڑوں کی گلہ بانی کر ” تو میری بھیٹر میں پرا“ ہاں اپنے سلسلہ میں داخل کرنے کا حکم دیتے وقت سارے حواریوں کو خدا کی بادشاہت کی منادی کرنے اور بیماروں کو اچھا کرنے کیلئے بھیجا ہے اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے الوصیت میں تحریر فرمایا ہے اور جہاں آپ نے خلیفہ کا ذکر کیا ہے وہاں تو یہ لکھا ہے۔یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے اور جب سے کہ اُس نے انسان کو زمین میں پیدا کیا ہمیشہ اس سنت کو وہ ظاہر کرتا رہا ہے کہ وہ اپنے نبیوں اور رسولوں کی مدد کرتا ہے اور اُن کو غلبہ دیتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے تب الله لاغلب آنا و رُسُلي اور غلبہ سے مراد یہ ہے کہ جیسا کہ رسولوں اور نبیوں کا یہ منشا ہوتا ہے کہ خدا کی حجت زمین پر پوری ہو جائے اور اُس کا مقابلہ کوئی نہ کر سکے اسی طرح خدا تعالیٰ قومی نشانوں کے ساتھ اُن کی سچائی ظاہر کر دیتا ہے اور جس راستبازی کو وہ دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں اُس کی تخم ریزی انہیں کے ہاتھ سے کر دیتا ہے لیکن اُس کی پوری تکمیل اُن کے ہاتھ سے نہیں کرتا بلکہ ایسے وقت میں اُن کو وفات دے کر جو بظاہر ایک ناکامی کا خوف اپنے ساتھ رکھتا ہے مخالفوں کو ہنسی اور ٹھٹھے اور طعن اور