خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 104
خلافة على منهاج النبوة ۱۰۴ جلد اول بعد کوئی خلیفہ بھی نہیں ہوا۔پس لوگ حضرت مسیح کا خلیفہ انجیل سے کس طرح پالیں جب کہ وہ اس کی صرف ۳۳ سال کی زندگی کے حالات ہیں۔حالانکہ حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح نے ایک سو میں سال کی عمر پائی ہے۔تو جب ۳۳ سال انجیلی زندگی کے بعد بھی حضرت مسیح زندہ رہے ہیں تو ان کے خلفاء کا پتہ انجیل سے کس طرح لگے۔اگر کوئی کہے کہ حضرت مسیح کے ایک سو بیس برس کی عمر میں مرنے کے بعد بھی تو کسی خلیفہ کا پتہ نہیں لگتا۔اس کے لئے ہم کہتے ہیں کہ اگر تم حضرت مسیح کی تمہیں سالہ زندگی کے بعد کے حالات ہمیں لا دو تو ہم ان کے خلیفے بھی نکال دیں گے اور جب حضرت مسیح کی پچھلی زندگی کی کوئی تاریخ ہی موجود نہیں ہے تو ان کے خلفاء کے متعلق بحث کرنا ہی فضول اور لغو ہے۔اور اگر یہ کہا جائے کہ صلیب پر لٹکنا اور ملک سے چلا جانا بھی موت ہی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی الوصیت میں لکھا ہے کہ ایسا ہی حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھ معاملہ ہوا یعنی ان کے بعد بھی خلیفہ ہوا اس لئے کوئی خلیفہ دکھاؤ۔اچھا ہم اس کو مان لیتے ہیں لیکن اس اعتراض سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے انجیل پر بھی غور نہیں کیا۔انجیل میں بعینہ وہی نقشہ درج ہے جو الوصیت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کھینچا ہے اور جس طرح الوصیت میں خلیفہ اور انجمن کا ذکر ہے اسی طرح انجیل میں ہے۔حضرت مسیح جب صلیب کے بعد اپنے حواریوں کے پاس آئے اور کشمیر جانے کا ارادہ کیا تو اس کا ذکر یوحنا باب ۲۱ میں اس طرح پر ہے کہ:۔اور جب کھانا کھا چکے تو یسوع نے شمعون پطرس سے کہا کہ اے شمعون یوحنا کے بیٹے ! کیا تو ان سے زیادہ مجھ سے محبت رکھتا ہے؟ اس نے اس (مسیح) سے کہا۔ہاں خدا وند تو تو جانتا ہی ہے کہ میں تجھے عزیز رکھتا ہوں۔اس نے اس سے کہا۔تو میرے برے پھرا۔اس نے دوبارہ اس سے پھر کہا کہ اے شمعون یوحنا کے بیٹے ! کیا تو مجھ سے محبت رکھتا ہے؟ وہ بولا ہاں۔خدا وند تو تو جانتا ہی ہے کہ میں تجھ کو عزیز رکھتا ہوں۔اس نے اس سے کہا۔تو میری بھیڑوں کی گلہ بانی کر۔اس نے تیسری بار اس سے کہا کہ اے شمعون یوحنا کے بیٹے ! کیا تو مجھے عزیز رکھتا ہے؟ چونکہ