خزینۃ الدعا

by Other Authors

Page 186 of 267

خزینۃ الدعا — Page 186

ورو حزينَةُ الدُّعَاءِ ادْعِيَةُ الْمَهْدِى آداب دعا از ارشادات حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔دعا بڑی عجیب چیز ہے۔مگر افسوس یہ ہے کہ نہ دعا کرانے والے آداب دعا سے واقف ہیں اور نہ اس زمانہ میں دعا کرنے والے ان طریقوں سے واقف ہیں جو قبولیت دعا کے ہوتے ہیں بلکہ اصل تو یہ ہے کہ دعا کی حقیقت ہی سے بالکل اجنبیت ہوگئی ہے۔بعض ایسے ہیں جو سرے سے دعا کے منکر ہیں اور جو دعا کے منکر تو نہیں مگر ان کی حالت ایسی ہوگئی ہے کہ چونکہ ان کی دعائیں بوجہ آداب دعا سے ناواقفیت کے قبول نہیں ہوتی ہیں۔کیونکہ دعا اپنے اصلی معنوں میں دعا ہوتی ہی نہیں اس لئے وہ منکرین دعا سے بھی گری ہوئی حالت میں ہیں۔( ملفوظات جلد 2 صفحہ 693,692) ایسے لوگ جنہوں نے دعا کے لئے استقامت اور استقلال سے کام نہیں لیا اور آداب دعا کو ملحوظ نہیں رکھا۔جب ان کو کچھ ہاتھ نہ آیا تو آخر وہ دعا اور اس کے اثر سے منکر ہو گئے اور پھر رفتہ رفتہ خدا تعالیٰ سے بھی منکر ہو بیٹھے کہ اگر خدا ہوتا تو ہماری دعا کو کیوں نہ سنتا۔ان احمقوں کو اتنا معلوم نہیں کہ خدا تو ہے مگر تمہاری دعا ئیں بھی دعا ئیں ہوتیں۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 617) سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ جس سے دعا کرتا ہے اس پر کامل ایمان ہو۔اس کو موجود، سمیع، بصیر، خبیر، علیم، متصرف، قادر سمجھے اور اس کی ہستی پر ایمان رکھے کہ وہ دعاؤں کو سنتا ہے اور قبول کرتا ہے۔( ملفوظات جلد 3 صفحہ 522) 188