خزینۃ الدعا — Page 203
خَرينَةُ الدُّعَاءِ 23 ادعِيَةُ المَهْدِى۔Abdul Karim افسوس کہ عبد الکریم کے واسطے کچھ بھی نہیں کیا جاسکتا۔“ (روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 481,480، تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ 46 تا48) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔یہ بالکل سچ ہے کہ مقبولین کی اکثر دعائیں منظور ہوتی ہیں بلکہ بڑا معجزہ ان کا استجابت دعا ہی ہے جب ان کے دلوں میں کسی مصیبت کے وقت شدت سے بے قراری ہوتی ہے اور اس شدید بے قراری کی حالت میں وہ اپنے خدا کی طرف توجہ کرتے ہیں تو خدا ان کی سنتا ہے اور اس وقت ان کا ہاتھ گویا خدا کا ہاتھ ہوتا ہے۔خدا ایک مخفی خزانہ کی طرح ہے۔کامل مقبولوں کے ذریعہ سے وہ اپنا چہرہ دکھلاتا ہے خدا کے نشان تبھی ظاہر ہوتے ہیں جب اس کے مقبول ستائے جاتے ہیں اور جب حد سے زیادہ ان کو دکھ دیا جاتا ہے تو سمجھو کہ خدا کا نشان نزدیک ہے بلکہ دروازہ پر کیونکہ یہ وہ قوم ہے کہ کوئی اپنے پیارے بیٹے سے ایسی محبت نہیں کرے گا جیسا کہ خدا ان لوگوں سے کرتا ہے جو دل و جان سے اس کے ہو جاتے ہیں وہ ان کے لئے عجائب کام دکھلاتا ہے اور ایسی اپنی قوت دکھلاتا ہے کہ جیسا ایک سوتا ہوا شیر جاگ اُٹھتا ہے خدا مخفی ہے اور اس کے ظاہر کرنے والے یہی لوگ ہیں وہ ہزاروں پردوں کے اندر ہے اس کا چہرہ دکھلانے والی یہی قوم ہے۔“ (حقیقۃ الوحی صفحہ 18-19 ، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 20-21) اب حضرت مسیح موعود مہدی موعود علیہ السلام کی دعائیں پیش کی جاتی ہیں۔گناہوں کی بخشش کی عاجزانہ دعا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مولانا نورالدین صاحب کو ان کے صاحبزادے کی وفات پر ایک تعزیتی مکتوب میں (اگست 1885ء میں ) اس دعا کی طرف کمال انکساری سے توجہ دلاتے ہوئے تحریر فرمایا کہ یہ دعا معمولات اس عاجز سے ہے اور در حقیقت اس عاجز کے مطابق حال ہے نیز تحریر فرمایا کہ ” مناسب ہے کہ بروقت اس دعا 205