خزینۃ الدعا

by Other Authors

Page 259 of 267

خزینۃ الدعا — Page 259

ورو حزينَةُ الدُّعَاءِ 79 أدْعِيَةُ المَهْدِى زاں تعلق با که با تو داشتم زاں محبت ہا کہ دردل کاشتم میں تجھے اس تعلق کا واسطہ دیتا ہوں جو مجھے آپ سے ہے ہاں اس محبت کا واسطہ دیتا ہوں جس کا پودا میں نے اپنے دل میں بور کھا ہے۔خود بروں آ از پیئے ابراء من اے تو کہف و ملجا و ماوائے من تو آپ مجھ کو ان الزامات سے (جو اندھی دنیا لگا رہی ہے ) بری ٹھہرانے کے لئے باہر نکل تو ہی تو میری پناہ اور میرا مادی و مجا ہے۔کاندر دلم آتے افروختی وز دم آن غیر خود را سوختی وہ آگ جو تو نے میرے دل میں روشن کی ہے اور جس نے غیر اللہ کی محبت کو جلا ڈالا ہے۔ہم ازاں آتش رخ من برفروز ویں شب تارم مبدل کن بروز اس آگ سے میرے چہرہ کو منور کر دے اور میری اس تاریک و تاریک و تاررات کو روز روشن سے بدل دے۔چشم بکشا ایس جہان کوررا اے شدید البطش بنما زور را اس اندھی دنیا کی آنکھوں کو روشن کر دے اے شدید البطش تو اپنی قوت و قدرت کو ظاہر فرما۔ز آسمان نور نشان خود نما یک گلے از بوستان خود نما آسمان سے اپنے نور کے نشان دکھا اپنے باغ سے ایک پھول کھلا دے۔ایں جہاں بینم پر از فسق و فساد غافلان را نیست وقت موت یاد میں دیکھتا ہوں کہ یہ دنیا فسق و فساد سے بھری ہوئی ہے اور غفلت کا اس قدر دور دورہ ہے کہ غافل انسان موت کو بھول چکے ہیں۔از حقائق غافل و بیگانه اند ہمچو طفلاں مائل افسانہ اند وہ حقائق سے غافل ہیں ناواقف ناواقف ہیں اور بچوں کی طرح کہانیوں کے شوقین ہیں۔سرد شد دلها ز مهر روئے دوست روئے دلہا تافته از کوئے دوست ان کے دل خدا کی محبت سے سرد ہیں اور دلوں کے رخ خدا کی طرف سے سے پھر گئے ہیں۔سیل در جوش است و شب تاریک و تار سیلاب جوش پر ہے اور رات سخت اندھیری ہے۔مہربانی فرما کر سورج چڑھا دے۔از کرمها آفتابی را برار ( در تمین فارسی صفحه ۱۷۹،۱۷۸) 261