خزینۃ الدعا

by Other Authors

Page 248 of 267

خزینۃ الدعا — Page 248

خَرينَةُ الدُّعَاءِ 68 أدْعِيَةُ المَهْدِى پھیر دے اے میرے مولیٰ اس طرف دریا کی دھار اب نہیں ہیں ہوش اپنے ان مصائب میں بجا رحم کر بندوں پہ اپنے تا وہ ہوویں رستگار کس طرح نپٹیں کوئی تدبیر کچھ بنتی نہیں بے طرح پھیلی ہیں یہ آفات ہر سُو ہر کنار ڈوبنے کو ہے یہ کشتی آمرے اے ناخدا آگیا اس قوم پر وقت خزاں اندر بہار اے خدا بن تیرے ہو یہ آبپاشی کس طرح جل گیا ہے باغ تقویٰ دیں کی ہے اب اک مزار تیرے ہاتھوں سے مرے پیارے اگر کچھ ہو تو ہو ورنہ فتنہ کا قدم بڑھتا ہے ہر دم سیل وار اک نشان دکھلا کہ اب دیں ہو گیا ہے بے نشاں اک نظر کر اس طرف تا کچھ نظر آوے بہار ( در مشین اردو صفحہ 128-129) 250