خزینۃ الدعا

by Other Authors

Page 223 of 267

خزینۃ الدعا — Page 223

ورو حزينَةُ الدُّعَاءِ 43 ادْعِيَةُ الْمَهْدِى اسم اعظم حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے 6 دسمبر 1902 ء کوتحریر فرمایا:۔رات کو میری ایسی حالت تھی کہ اگر خدا کی وحی نہ ہوتی تو میرے اس خیال میں کوئی شک نہ تھا کہ میرا آخری وقت ہے۔اسی حالت میں میری آنکھ لگ گئی۔تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک جگہ پر میں ہوں کہ تین بھینسے آئے ہیں۔ایک ان میں سے میری طرف آیا۔تو میں نے اسے مار کر ہٹا دیا پھر دوسرا آیا تو اسے بھی ہٹا دیا پھر تیسرا آیا اور وہ ایسا پرزور معلوم ہوتا تھا کہ میں نے خیال کیا کہ اب اس سے مفر نہیں ہے۔خدا تعالیٰ کی قدرت کہ مجھے اندیشہ ہوا تو اس نے اپنا منہ ایک طرف پھیر لیا۔میں نے اس وقت یہ غنیمت سمجھا کہ اس کے ساتھ رگڑ کر نکل جاؤں۔میں وہاں سے بھاگا۔اور بھاگتے ہوئے خیال آیا کہ وہ بھی میرے پیچھے بھاگے گا۔مگر میں نے پھر نہ دیکھا۔اس وقت خواب میں خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے دل پر مندرجہ ذیل دعا القا کی گئی۔رَبِّ كُلُّ شَيءٍ خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظْنِيْ وَانْصُرْنِي وَارْحَمْنِي ترجمہ:۔اے میرے رب ہر ایک چیز تیری خادم ہے۔اے میرے رب پس مجھے محفوظ رکھ اور میری مدد فرما اور مجھ پر رحم فرما اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہ اسم اعظم ہے اور یہ وہ کلمات ہیں کہ جو اسے پڑھے گا ہر ایک آفت سے اُسے نجات ہوگی۔“ تذکره صفحه 363,364) اس کے بعد حضور علیہ السلام نے اپنے مختلف رفقاء کو اپنے خطوط میں رکوع وسجود میں اور قیام میں سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد بتکرار صدق دل تذلل اور بجز سے یہ دعا پڑھنے کی تلقین (مکتوبات جلد 5 حصہ اول صفحہ 38) فرمائی۔225