خزینۃ الدعا — Page 205
حزينَةُ الدُّعَاءِ 25 اَدْعِيَةُ الْمَهْدِى دُعائے بیعت تو بہ حضرت مسیح موعود نے جن الفاظ میں حضرت نور الدین اعظم خلیفہ اول سے بیعت لی۔وہ حضرت خلیفہ اول کی درخواست پر حضور نے اپنے قلم سے لکھ کر انہیں عنایت فرمائی۔بسم اللہ الرحمن الرحیم محمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم آج میں احمد کے ہاتھ پر اپنے اُن تمام گناہوں اور خراب عادتوں سے تو بہ کرتا ہوں۔جن میں مبتلا تھا۔اور اپنے سچے دل اور پکے ارادہ سے عہد کرتا ہوں کہ جہاں تک میری طاقت اور سمجھ ہے۔اپنی عمر کے آخری دن تک تمام گناہوں سے بچتا رہوں گا۔اور دین کو دنیا کے آراموں اور نفس کے لذات پر مقدم رکھوں گا۔اور اشتہار کی دس شرطوں پرھتے الوسع کار بند رہوں گا۔اور میں اپنے گذشتہ گناہوں کی خدا تعالیٰ سے معافی چاہتا ہوں۔أَسْتَغْفِرُ اللهَ رَتِي - اَسْتَغْفِرُ اللهَ رَنِي - اسْتَغْفِرُ اللَّهَ رَبِّي مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ وَأتُوبُ إِلَيْهِ وَأَشْهَدُ أَنْ لا إلهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ - رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ ترجمہ: میں اللہ اپنے رب سے بخشش طلب کرتا ہوں۔میں اللہ اپنے رب سے بخشش طلب کرتا ہوں۔میں اللہ اپنے رب سے بخشش طلب کرتا ہوں۔اور اسی کی طرف جھکتا ہوں۔میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔اے میرے رب میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور اپنے گناہوں کا اعتراف کیا۔پس میرے گناہ بخش دے کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہ نہیں بخش سکتا۔میر شفیع احمد صاحب محقق دہلوی کی روایت ہے کہ حضور علیہ السلام جب الفاظ بیعت دہراتے 207