خزینۃ الدعا — Page 188
ورو حزينَةُ الدُّعَاءِ 8 ادعِيَةُ المَهْدِى بعض لوگ تھک جاتے ہیں۔۔۔ایسے لوگوں کو میں مخنث سمجھتا ہوں۔میں تو یہاں تک کہتا ہوں کہ اگر تمیں چالیس برس گزر جاویں تب بھی تھکے نہیں اور باز نہ آوے۔۔۔اللہ تعالیٰ دعا کرنے والوں کو ضائع نہیں کرتا۔“ ( ملفوظات جلد 5 ص 106) حضرت یعقوب علیہ السلام۔۔۔چالیس برس تک۔۔۔دعائیں کرتے رہے۔۔۔آخر چالیس برس کے بعد وہ دعا ئیں کھینچ کر یوسف علیہ السلام کو لے ہی آئیں۔“ ( ملفوظات جلد 2 ص 152) دعا صرف زبان سے نہیں ہوتی بلکہ دعاوہ ہے کہ ”جو منگے سومر ر ہے مرے سومنگن ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 107 حاشیہ) جا۔66 دعا میں بھی جب تک کچی تڑپ اور حالت اضطراب پیدا نہ ہو تب تک وہ بالکل بے اثر اور بیہودہ کام ہے۔“ ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 455) یا در کھودعا ایک موت ہے اور جیسے موت کے وقت اضطراب اور بے قراری ہوتی ہے اسی طرح پر دعا کے لئے بھی ویسا ہی اضطراب اور جوش ہونا ضروری ہے۔پس چاہئے کہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر نہایت تفرع اور زاری و ابتہال کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حضور اپنی مشکلات کو پیش کرے اور اس دعا کو اس حد تک پہنچا دے کہ ایک موت کی سی صورت واقع ہو جاوے۔اس وقت دعا قبولیت کے درجہ تک پہنچتی ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 616) اصل بات یہ ہے کہ دعا کے اندر قبولیت کا اثر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ انتہائی درجہ کے اضطرار تک پہنچ جاتی ہے۔پہلے سامان آسمان پر کئے جاتے ہیں اس کے بعد وہ زمین پر اثر دکھاتے ہیں۔یہ چھوٹی سی بات نہیں بلکہ ایک عظیم الشان حقیقت ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ جس کو خدائی کا جلوہ دیکھنا ہواسے چاہئے کہ دعا کرے۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 618) ہے۔190