خزینۃ الدعا

by Other Authors

Page 187 of 267

خزینۃ الدعا — Page 187

حزينَةُ الدُّعَاءِ 7 ادْعِيَةُ المَهْدِى بہت سی دعاؤں کے رڈ ہونے کا یہ بھی ستر ہے کہ دعا کرنے والا اپنی ضعیف الایمانی سے دعا کو مستر د کرالیتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 702) قبولیت دعا کے واسطے چار شرطوں کا ہونا ضروری ہے۔شرط اول یہ ہے کہ اتقاء ہو۔۔۔۔دوسری شرط دل میں درد ہو تیسری شرط یہ ہے کہ وقت اصفی میسر آئے۔۔۔۔۔چوتھی شرط یہ ہے کہ پوری مدت دعا کی حاصل ہو۔“ ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 536,535) د بعض لوگ۔۔۔دعا کرانے کے آداب سے واقف نہیں ہوتے۔۔۔جب تک دعا کرانے والا اپنے اندر ایک صلاحیت اور اتباع کی عادت نہ ڈالے دعا کارگر نہیں ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 39) ہوسکتی۔“ انسان کی دعا اس وقت قبول ہوتی ہے جب کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لئے غفلت ،فستق و فجور کو چھوڑ دے۔جس قدر قرب الہی انسان حاصل کرے گا اسی قدر قبولیت دعا کے ثمرات سے حصہ لے گا۔“ ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 436) دعا کی قبولیت میں تا خیر ڈالنے والے یا دعا کے ثمرات سے محروم کرنے والے بعض مکروہات ہوتے ہیں جن سے انسان کو بچنا لازم ہے۔(ملفوظات جلد 4 صفحہ 287) جب تک سینہ صاف نہ ہو دعا قبول نہیں ہوتی۔اگر کسی دنیوی معاملہ میں ایک شخص کے ساتھ بھی تیرے سینہ میں بغض ہے تو تیری دعا قبول نہیں ہوسکتی۔“ ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 170) یاد رکھو جو مخلوق کا حق دباتا ہے اس کی دعا قبول نہیں ہوتی کیونکہ وہ ظالم ہے۔“ ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 195) 66 ظالم فاسق کی دعا قبول نہیں ہوا کرتی۔“ ( ملفوظات جلد 2 ص 682 یاد کھو کہ دعا ئیں منظور نہ ہوں گی جب تک تم متقی نہ ہو۔“ ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 130) 189