خزینۃ الدعا

by Other Authors

Page 170 of 267

خزینۃ الدعا — Page 170

خَزِينَةُ الدُّعَاءِ 119 مناجات رسول ﷺ جا بیٹھیں کہ اب خود ہی بتا ئیں گے۔مگر جب آنحضور نے کچھ دیر تک نہ بتایا تو عجب شوق کے عالم میں خود اٹھیں ، رسول اللہ کے پاس آکر کھڑی ہو گئیں۔آپ کی پیشانی کو بوسہ دیا اور منت کرتے ہوئے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! مجھے وہ صفت ضرور بتا دیں۔آنحضرت نے فرمایا عائشہ بات دراصل یہ ہے کہ اس صفت کے ذریعہ خدا تعالیٰ سے دنیا کی کوئی چیز مانگنا درست نہیں اس لئے میں بتانا نہیں چاہتا۔تب حضرت عائشہ ناراض ہو کر وہاں سے اٹھیں ، وضو کیا مصلی بچھایا اور آنحضور گوسُنا سنا کر بآواز بلند یہ دُعا مانگنے لگیں: میرے مولیٰ ! تجھے اپنے سارے پاک ناموں اور اچھی صفتوں کا واسطہ، وہ صفتیں جو مجھے معلوم ہیں اور وہ بھی جو میں نہیں جانتی کہ تو اپنی اس بندی سے عفو کا سلوک کرنا۔آنحضرت ﷺ پاس بیٹھے مسکراتے جا رہے تھے اور فرما رہے تھے اے عائشہ! بے شک وہ صفت انہی صفات میں سے ایک ہے جو تم نے شمار کر ڈالی ہیں۔ابن ماجہ کتاب الدعاء باب اسماء الاعظم ) پس قبولیت دعا کے ساتھ صفات الہیہ کا گہرا تعلق ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَلِلْ الأسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بهَا (الاعراف (۱۸۱) کہ اللہ کے پاک نام اور خوبصورت صفات ہیں۔اُن کو یاد کر کے خدا کو پکارو اور اُس سے دعا مانگا کرو۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی ننانوے صفات ہیں جو شخص ان صفات کو خوب اچھی طرح یاد اور مستحضر رکھتا ہے وہ جنتی ہے۔( ترمذی کتاب الدعوات باب 83۔ابن ماجہ کتاب الدعاء باب اسماء الاعظم ) 171