خزینۃ الدعا — Page 17
حزينَةُ الدُّعَاءِ 17 قرآنی دعائیں ہم اللہ تعالیٰ پر ہی بھروسہ رکھتے ہیں۔اے ہمارے رب! ہمیں (ان ) ظالم لوگوں کے لئے فتنہ ( کا موجب نہ بنا۔اور اپنی رحمت سے ہمیں کا فرلوگوں کے ظلم سے نجات دے۔(35) ظالم بستی کے اہل کے ظلم سے بچنے اور ہجرت کی دعا حضرت عبداللہ بن عباس (جن کی والدہ ام فضل ابتدائی زمانے میں ایمان لے آئی تھیں) بیان کرتے تھے کہ رسول کریم اے کے مکہ سے ہجرت کر جانے کے بعد میں اور میری والدہ بھی مکہ کے ان کمزور بچوں اور عورتوں میں شامل تھے جن کا ذکر قرآن شریف میں ہے کہ وہ ہجرت کے لئے نصرت الہی کی دعائیں کرتے ہیں ( بخاری کتاب التفسیر سورۃ النساء) فتح مکہ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ان مظلوموں کو اہل مکہ کے ظلم سے نجات دی۔رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَلْ تَنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِيًّا وَاجْعَلْ تَنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِيرًا (النساء:۲) اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے جس کے رہنے والے ظالم ہیں نکال اور اپنی جناب سے ہمارا کوئی دوست بنا کر بھیج) اور اپنے حضور سے (کسی کو) ہمارا مددگار بنا کر کھڑا کر ) (36) قوت و طاقت پا کر ظلم سے بچنے کی دعا نبی کریم ﷺ کو فتوحات کے وعدوں کے ساتھ یہ دعا سکھا کر گویا اپنی قوم سے عفو کے سلوک کی تعلیم دی گئی:۔رَّبِّ إِمَّا تُرِيَنِي مَا يُوْعَدُونَ رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِي فِي الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ (المؤمنون ۹۵،۹۴) اے میرے رب ! اگر تو میری زندگی میں وہ کچھ دکھا دے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔تو اے میرے رب ! تو مجھے ظالم قوم میں سے نہ بنائیو۔17