ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 56 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 56

۵۶ ہم نے اور میں کو ایک بلند مرتبہ والا نبی بنایا تھا۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم کی اس حدیث میں یہ اشارہ تھا کہ اگر ابراہیم زندہ رہتا تو وہ بھی بڑی بلندشان کو پہنچتا کیونکہ اس میں فطری طور پر بہت اعلیٰ قومی ودیعت کئے گئے تھے۔اس کے علاوہ صديقا نبیا کے مرکب الفاظ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اشارہ بھی فرمایا ہے کہ جس طرح ایک صدیق اپنے درجہ کے لحاظ سے نبی سے نیچے ہوتا ہے اسی طرح اگر ابراہیم نبی بنتا تو وہ بھی اپنے علو مرتبت کے باوجود میری شریعت کے تابع اور میرا خوشہ چین ہی رہتا۔یعنی بالفاظ دیگر خلی اور امتی نبی بنتا نہ کہ صاحب شریعت یا مستقل نبی۔الغرض اس لطیف حدیث میں جو صحاح ستہ کی مشہور کتاب ابنِ ماجہ میں درج ہے ہمارے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت صاف اور صریح الفاظ میں یہ فرمایا ہے کہ اگر میرا بچہ ابراہیم زندہ رہتا تو وہ ضرور نبوت کے مقام کو پہنچ جاتا۔اس واضح ارشاد کے بعد ہمارے مخالفین کے لئے صرف دو ہی رستے کھلے ہیں۔(۱) یا تو وہ یہ کہیں کہ نعوذ باللہ خدا نے ابراہیم کو اس لئے وفات دے دی کہ وہ کہیں بڑا ہو کر نبی نہ بن جائے۔مگر ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ ایک بالکل لغو اور بیہودہ بات ہے کیونکہ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ خدا نے نعوذ باللہ ابراہیم کو بھول کر دُنیا میں بھیجد یا تھا لیکن جب اسے یہ بات یاد آئی کہ میں تو اپنے رسول کو خاتم النبیین قرار دے چکا ہوں تو اس نے فورا حضرت ابراہیم کو وفات دیگر یہ قصہ ختم کر دیا۔کیا اس سے بڑھ کر کوئی غیر معقول تشریح اس حدیث کی ہو سکتی ہے؟ (۲) دوسرا رستہ یہ ہے کہ ہمارے مخالف خدا کا خوف کھا کر اور اپنی ضد چھوڑ کر اس بات کو قبول کریں کہ آیت خاتم النبیین کے