ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 39 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 39

۳۹ کے لوگوں کا آپس میں کامل اتحاد اور رابطہ اور اتصال ہوگا۔اور وہ گویا جُنُودُ مُجَنَّدَةٌ کا نظارہ پیش کریں گے۔چنانچہ اس غرض کے ماتحت آیت کے آخر میں حَسُنَ أُولَئِكَ رفیقا کے الفاظ رکھتے گئے ہیں تا اس رُوحانی رفاقت اور رابطہ اور اتحاد کی طرف اشارہ کیا جائے جو ہر منعم علیہ جماعت میں لازما موجود ہوتا ہے اور ہونا چاہئیے۔اسی اُصول کے ما تحت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حدیث میں فرماتے ہیں کہ :۔الانبياء اخوة من علات أمها تهم شتى و دينهم واحد۔( مسلم باب فضائل عیسی ) یعنی تمام نبی آپس میں ایسے بھائی بھائی ہیں کہ اُن کی مائیں تو جدا جدا ہیں مگر باپ ایک ہی ہے اور دین بھی ایک ہے۔“ پس آیت زیر غور میں بھی اسی رُوحانی اتحاد کی طرف اشارہ کرنے کے لئے مع کا لفظ لا یا گیا ہے تامن اور مع کا مرتب مفہوم پیدا کر کے آیت کے معنی میں وسعت پیدا کی جائے۔مگر افسوس کہ اس زمانہ کے اکثر مولوی صاحبان قرآنی معارف اور غوامض سے بالکل کورے ہیں۔اور سمندر میں غوطہ لگا کر اس کی گہرائیوں سے موتی نکالنے کی بجائے اس کی سطح کی جھاگ اور خس و خاشاک کو ہی جو خود اُن کی اپنی پیدا کردہ ہے، اپنے سینوں سے لگائے بیٹھے ہیں ورنہ انہیں نظر آتا کہ قرآن مجید کا ہر لفظ اور ہر حرف اپنے اندر نہایت وسیع اور گہرے معانی رکھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب قرآن مجید ایک عام لفظ کو چھوڑ کر اس کی جگہ کوئی دوسرا لفظ اختیار کرتا ہے تو اس تبدیلی میں بھی ایک بھاری حکمت مخفی ہوتی ہے ولا يَعْلَمُ تَأْوِيْلَهُ إِلَّا اللهُ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ - وَالَّذِيْنَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تشَابَهَ مِنْهُ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا -