ختم نبوت کی حقیقت — Page 166
۱۶۶ سے خدا تعالیٰ کی یہی سنت چلی آئی ہے کہ وہ ہر فساد عظیم کے زمانہ میں اپنی طرف سے کسی شخص کو نبوت کے مقام پر فائز کر کے اصلاح خلق کے لئے مبعوث فرماتا ہے تو اس زمانہ میں اس ازلی سنت کو کیوں ختم سمجھا جائے؟ اس کے جواب میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ بیشک پہلے ایسا ہی تھا مگر خاتم النبیین کی بعثت کے بعد یہ سلسلہ بند ہو چکا ہے۔کیونکہ اول تو ہم آیت خاتم المتعین کی تشریح میں ثابت کر چکے ہیں کہ خاتم النبیین کے لفظ سے یہ مراد ہرگز نہیں کہ اب نبوت کا سلسلہ ہی بند ہے بلکہ مراد صرف یہ ہے جہاں پہلے یہ نہر مستقل اور علیحدہ صورت میں جاری تھی وہاں اب وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک وجود کے ذریعہ سے اور اس کے اندر ہو کر جاری ہے۔دوسرے جیسا کہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں یہاں قرآن یا حدیث کے دلائل کی بحث نہیں جو او پر گزر چکی ہے بلکہ صرف عقلی دلائل کی بحث ہے اور عقل کے میدان میں یہ دلیل بالکل صاف اور واضح ہے کہ اصلاح خلق کا جو طریق اور بعثت انبیاء کی جو سنت ازل سے جاری چلی آئی ہے اُسے اب آکر کیوں بند سمجھا جائے؟ اور وہ کونسی عقلی دلیل ہے جس کی وجہ سے اس قدیم نہر کے آگے بند لگا کر اسے ختم کرنا ضروری ہو گیا ہے؟ دوستو اور عزیزو! سوچو اور سمجھو کہ جب سے کہ دُنیا بنی ہے خدا تعالیٰ نے انبیاء کی بعثت کے ذریعہ اصلاح خلق کا ایک معین طریق قائم کر رکھا ہے اور لوگوں کے قلوب کی آبپاشی کے لئے ایک از لی نہر جاری کی ہوئی ہے تو اب اس زمانہ میں آکر اس قدیم سنت کو کیوں بند قرار دیا جائے؟ یہ ایک ایسا پختہ اور یقینی استدلال ہے جسے ہر غیر متعصب انسان کی عقل اور اس کا نور ضمیر قبول کرنے پر مجبور ہے۔اور اس کے خلاف کوئی عقلی دلیل خیال میں نہیں آسکتی۔