ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 155 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 155

۱۵۵ علیہ وسلم کے بعد ایک ایسے شخص کو تو نبی تسلیم کیا جائے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں اور شاگردوں اور رُوحانی فرزندوں میں سے نہیں ہے بلکہ آپ کی بجائے وہ حضرت موسیٰ کی شریعت کا جوا اپنی گردن پر رکھتا ہے۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں اور شاگردوں اور خوشہ چینوں اور روحانی فرزندوں میں سے کسی فرد کے لئے اس اعزاز کو تسلیم نہ کیا جائے؟ دوستو اور عزیز وخدا کے لئے غور کرو کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بنی اسرائیل کی قوم کا ایک گزشتہ نبی جس کی نبوت آپ کے فیضان کی ممنونِ احسان نہیں اپنی سابقہ نبوت کے مقام پر فائز رہ کر مسلمانوں کا امام بن سکتا ہے اور نبی کہلاسکتا ہے تو سید ولید آدم فخر انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک غلام اور شاگرد اور آپ کے فیض سے فیض پانے والا اور آپ کے ٹور سے نور حاصل کرنے والا شخص کیوں اس منصب کو حاصل نہیں کر سکتا ؟ افسوس صد افسوس کہ ہمارے بھٹکے ہوئے بھائیوں نے اپنے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کی قدر بالکل نہیں پہنچانی۔اور آپ کو حضرت موسی اور بنی اسرائیل کا ممنونِ احسان بنانا پسند کیا مگر اس بات کو گوارا نہ کیا کہ آپ کے غلاموں اور شاگردوں میں سے کوئی شخص آپ سے فیض کی برکت سے اور آپ کے ٹور سے ٹور پا کر نبوت کے مقام کو پہنچے۔کسی نے سچ کہا ہے :۔من از بیگانگاں ہرگز نہ نالم * کہ بامن ہر چہ کر دآں آشنا کرد حضرت امام شعرانی اور امام علی بن محمد سلطان القاری کے حوالے حضرت امام شعرانی (وفات 4 ہجری ) اور حضرت امام علی بن محمد سلطان القاری (وفات ۰۱۴! ہجری) کے حوالے او پر گزر چکے ہیں۔اسلئے انہیں اس جگہ دُہرا کر اس مضمون کو بلا وجہ طول دینے کی ضرورت نہیں۔اگر ناظرین چاہیں تو حدیث لا نبی بعدی ا دیکھوصفحہ ۱۰۴ تا ۱۰۸