ختم نبوت کی حقیقت — Page 142
۱۴۲ زمانہ میں جمہور مسلمانوں کو اس غلطی کی طرف توجہ دلاتا رہا ہے اور خیالات کی کش مکش برابر جاری رہی ہے۔حتی کہ فیج اعوج کے زمانہ میں جس کے لئے علماء ھم شر من تحت ادیم الشماء کا انذار بیان ہو چکا تھا۔یہ غلطی ایسا غلبہ پاگئی کہ خاص اہلِ بصیرت لوگوں کو چھوڑ کر عوام الناس اسی غلط خیال پر جم کر بیٹھ گئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجودِ مبارک میں سب اگلے پچھلے سلسلے کلیہ ختم ہو چکے ہیں۔اور آپ کے بعد ہر قسم کی نبوت کا دروازہ بند ہے۔یقینا یہی وہ صورت ہے جس میں اس غلط عقیدہ نے ابتداء میں ایک بیج کے طور پر پرورش پا کر آہستہ آہستہ جمہور کے دل و دماغ پر قبضہ جما لیا۔اور عہد نبوت سے دُوری کی وجہ سے مسلمان عوام یہ سمجھنے لگ گئے کہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کمال اس بات میں نہیں ہے کہ آپ نئی رُوحانی نہر کے جاری کرنے والے قرار پائیں بلکہ اس بات میں ہے کہ آپ پر تمام سابقہ نہریں پہنچ کر بند ہو جا ئیں۔مجھے یقین ہے کہ جو شخص اس معاملہ میں خالی الذہن ہو کر صحیح نفسیاتی اُصول پر غور کرے گا وہ لازما اسی نتیجہ پر پہنچے گا جو ہم نے اس جگہ بیان کیا ہے۔یعنی یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی مقام کو نہ سمجھنے کی وجہ سے یہ ساری غلط نہی پیدا ہوئی ہے۔کاش ہمارے مخالف اصحاب اس حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کریں۔وما علینا الا البلاغ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کا لطیف ارشاد اس کے بعد میں نہایت مختصر طور پر انفرادی حوالوں کو لیتا ہوں۔سب سے پہلے ہمارے سامنے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول آتا ہے جو ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کے چا زاد بھائی اور آپ کی جگر گوشہ حضرت فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا کے خاوند اور اسلام کے