ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 129 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 129

۱۲۹ معاملہ بہر صورت اس حدیث کے نیچے نہیں آسکتا۔دوسری بات یہ قابل توجہ ہے کہ اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف یہ فرمایا ہے کہ میری اُمت میں تیس دجال اور کذاب پید اہوں گے جو نبوت کا دعویٰ کریں گے۔لیکن یہ ہرگز نہیں فرمایا کہ جو شخص بھی نبوت کا دعوی کرے وہ دقبال اور کذاب ہوگا۔ان دونوں باتوں میں بہت بھاری فرق ہے۔اور کوئی عقل مند انسان انہیں ایک نہیں قرار دے سکتا۔کیا جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ میری امت میں تیس کذاب اور دجال پیدا ہوں گے جو نبوت کا دعوی کریں گے، آپ یہ مختصر سی بات نہیں فرما سکتے تھے کہ میری اُمت میں جو شخص بھی نبوت کا دعوی کرے وہ دجبال اور کذاب ہے؟ ہائے افسوس کہ عقلوں پر کیسے پردے پڑ چکے ہیں کہ ایک صاف اور سیدھی سی بات سے بالکل الٹا نتیجہ نکالا جارہا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو یہ فرماتے ہیں کہ میری امت میں تیس جھوٹے مدعی نبوت پیدا ہوں گے لیکن ان الفاظ پر ملمع سازی کر کے رنگ یہ دیا جا رہا ہے کہ گویا آپ نے یہ فرمایا ہے کہ جو شخص بھی نبوت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا اور دجال ہے۔اس دیدہ دلیری پر جو حدیث کے صریح الفاظ کو دیکھتے بھالتے ہوئے کی جارہی ہے اس کے سوا کیا کہا جائے کہ :۔چه دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد عدد کی حد بندی میں لطیف حکمت علاوہ ازیں اِس حدیث میں جو تیس کا عدد بیان ہوا ہے وہ بھی اس بات پر گواہ ہے کہ یہاں جھوٹے نبیوں کی تعداد کی تعیین اور حد بندی کرنا اصل مقصد ہے نہ کہ یہ بتانا