ختم نبوت کی حقیقت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 113 of 187

ختم نبوت کی حقیقت — Page 113

ہزاروں ہزار دُرود اور سلام ہمارے رسول پاک پر ہوں جس نے ہمارے لئے ہر تاریک کونے میں ایک شمع ہدایت آویزاں کر رکھی ہے اور ہر ٹھوکر لگانے والے گڑھے میں سے ایک صاف رستہ گزار کر ہمیں گرنے سے محفوظ کر لیا ہے۔اب یہی ائی آخر الانبياء والی حدیث ہے جس کے متعلق بعض جلد باز اور کوتاہ نظر لوگ لغزش کھا سکتے ہیں کہ شاید ان الفاظ سے یہی مراد ہو کہ آپ کے بعد کسی صورت میں کسی قسم کا نبی بھی نہیں آسکتا خواہ وہ آپ کا خادم اور آپ کا حصہ ہی ہو تو آپ نے فورا اس امکانی ٹھوکر کے قریب ایک روشن شمع نصب کر کے اپنی اُمت کو ہوشیار کر دیا کہ اس جگہ ائی آخر الانبیاء سے میری مراد اسی قسم کا آخری نبی ہے جس طرح کہ میری یہ ( مدینہ والی ) مسجد آخری مسجد ہے۔اگر ان مسجدی آخر المساجد ( یعنی میری یہ مسجد آخری مسجد ہے ) کے معنی یہ نہیں اور ہر گز نہیں کہ آئندہ دُنیا میں کوئی اور مسجد بنے گی ہی نہیں بلکہ صرف یہی معنی ہیں کہ آئندہ میری مسجد کے مقابل پر کوئی مسجد نہیں بنے گی بلکہ جو مسجد بھی بنے گی وہ میری مسجد کے تابع اور اُس کی نقل اور اُس کی ظلت ہوگی کیونکہ میری شریعت دائمی ہے اور اس کے بعد کوئی اور شریعت نہیں تو لا ز ما ابی آخر الانبیاء ( میں آخری نبی ہوں) کے بھی یہی معنی ہیں کہ میرے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آ سکتا جو مجھ سے آزاد رہ کر نبوت کا انعام پائے بلکہ جو بھی ہوگا وہ میرا شاگرد اور تابع اور خلق ہوگا۔اللہ اللہ ! یہ کس شان کا کلام ہے اور ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کی دُور بین نظر کس حد تک پہنچی ہے کہ ابی آخر الانبیاء کے الفاظ میں جس غلط فہمی کا امکانی خطرہ مخفی تھا اُسے بھانپ کر فورا ان الفاظ کے ذریعہ دُور فرما دیا کہ میں اسی معنی میں آخری نبی ہوں جس معنی میں کہ میری یہ مدینہ والی مسجد آخری مسجد ہے۔