ختم نبوت کی حقیقت — Page 101
1+1 صلی اللہ علیہ وسلم کی جسمانی زندگی کے ساتھ محدود کر رہے ہیں حالانکہ آپ کا منشاء یہ تھا اور یہی آپ کی ارفع شان کے مطابق ہے کہ میرا زمانہ نبوت قیامت تک پھیلا ہوا ہے۔اور اس کے بعد یعنی اس کے دامن کو کاٹ کر اس کے دور کوختم کر کے کوئی نبی نہیں آسکتا۔عزیز و اور دوستو! سوچو اور غور کرو کہ بعد کا مفہوم سوائے اس کے کچھ نہیں کہ آپ کی نبوت کا دور ختم ہو اور آپ کی شریعت کو منسوخ کر کے کوئی دوسرا نبی ظاہر ہو جائے۔لیکن ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا۔کیونکہ آپ کی نبوت کا دور قیامت تک چلتا ہے۔اور کبھی ختم نہیں ہوگا۔یہ وہ لطیف اور پر حکمت مضمون ہے جو حدیث لا نبی بعدی میں بیان کیا گیا ہے۔مگر افسوس کہ اس زمانہ کے ظاہر پرست اور کوتاہ بین لوگوں نے اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جسمانی زندگی کے ساتھ محد ودکر کے اسے اس کے ارفع مقام سے نیچے گرادیا ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ ہم پورے شرح صدر کے ساتھ حدیث لا نبی بعدی پر ایمان لاتے اور اس بات کا برملا اعلان کرتے ہیں کہ واقعی ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ نعوذ باللہ آپ کے چشموں کا پانی خشک ہو گیا ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ آپ کی نبوت کا دامن قیامت تک پھیلا ہوا ہے۔اور اب جو بھی آئے گا وہ آپ کی نبوت کے دامن میں لپٹا ہوا آئے گا۔اور اس کی نبوت آپ کی نبوت اندر ہوگی نہ کہ اس کے بعد یا باہر۔کیونکہ اب کسی ماں کے بیٹے میں یہ طاقت نہیں خواہ وہ مسیح ناصری ہو یا کوئی اور کہ وہ قیامت سے پہلے آپ کی نبوت کے دور کو کاٹ کر اور آپ کی ختم نبوت کی مہر کو توڑ کر سر پر رسالت پر قدم رکھے۔ہمارا آقا اولین و آخرین کا سردار اور سیّدِ ولید آدم ہے، جو نبی اس سے پہلے گزرے وہ اُس کی تیاری کے لئے آئے جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے کہ كُنْتُ نَبِيًّا وَادَهُ بَيْنَ الْمَاءِ وَالطِيْن۔اور جو اس کے بعد آئے گا وہ اُس کا