ختم نبوت کی حقیقت — Page 1
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ ط أَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ ط دوستو اک نظر خُدا کے لئے سید الخلق مصطفے" کے لئے جو غلط فہمیاں اس زمانہ میں جماعتِ احمدیہ کے متعلق پھیلائی گئی ہیں ان میں غالباً سب سے زیادہ شر انگیز غلط نہی اس بہتان سے تعلق رکھتی ہے کہ نعوذ باللہ جماعت احمدیہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کی منکر ہے۔اور اپنے سلسلہ کے بانی حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود کو ایسا نبی مانتی ہے جس سے حدیث لا نبی بعدی اور حديث ابي اخر الانبیاء کا مفہوم باطل ہو جاتا ہے۔اور گو یا سرور کائنات فخر موجودات حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا دور ختم کر کے ایک نئے مذہب اور نئے سلسلۂ رسالت کی داغ بیل ڈالی جارہی ہے۔یہ رسالہ اسی سرتا پا باطل الزام اور سراسر بے بنیادا تہام کو دُور کرنے کی غرض سے لکھا گیا ہے۔اور گو اس رسالہ کی تصنیف ایسے وقت میں ہوئی ہے جب کہ پنجاب کے گزشتہ ہنگامی حالات کی وجہ سے توجہ میں کافی انتشار کی کیفیت تھی اور خاطر خواہ یکسوئی میٹر نہیں تھی۔لیکن میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا کے فضل سے اس رسالہ میں اس مسئلہ کے وہ سب ضروری پہلو مختصر طور پر آگئے ہیں جو اس بارے میں جماعت احمدیہ کے عقائد اور ان عقائد کے دلائل اور پھر ان دلائل کی حکمت کو سمجھنے کے لئے ضروری ہیں۔لیکن ظاہر ہے کہ کوئی دلیل خواہ وہ کتنی ہی روشن اور پختہ ہو کسی انسان کے دل میں راہ نہیں پاسکتی جب تک کہ کوئی شخص اپنے دل و دماغ کی کھڑکیوں کو کھلا رکھ کرحق وصداقت